ویب ڈیسک۔ ایران میں افغان شہریوں کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق صرف 16 دنوں میں 5 لاکھ سے زائد افغان باشندوں کو ایران سے نکال کر افغان سرحد کے قریب علاقوں میں واپس بھیجا گیا ہے۔
یہ کریک ڈاؤن ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی ریاستی میڈیا پر ایسی ویڈیوز نشر کی گئی ہیں جن میں بعض افغان شہریوں نے اسرائیلی اداروں کے لیے جاسوسی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ان اعترافات کے بعد ایرانی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، اور ملک بھر میں افغان پناہ گزینوں کو نکالنے کے مطالبات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں جہاں بڑی تعداد میں افغان شہریوں کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بے دخل کیے گئے افراد سرحد پر شدید کسمپرسی، بھوک، بیماری اور بے سروسامانی کا شکار ہیں، جبکہ افغان حکومت ابھی تک ان کی مناسب دیکھ بھال یا امداد فراہم کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزامات صرف چند انفرادی افراد پر عائد کیے گئے ہیں، تاہم اس کے اثرات پورے افغان مہاجر طبقے پر مرتب ہو رہے ہیں، اور مجموعی طور پر افغان باشندوں پر اعتماد میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
افغانستان میں اس صورت حال نے انسانی بحران کو جنم دیا ہے، جہاں سرحد پر پھنسے ہزاروں افغان شہری نہ صرف پناہ سے محروم ہیں بلکہ بنیادی سہولیات تک بھی رسائی نہیں رکھتے ہیں۔