عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کمی

عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کمی

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو گئی ہے جہاں امریکی ڈالر کی مسلسل مضبوطی اور ٹریژری ییلڈز میں اضافے نے سونے کی چمک ماند کر دی ہے۔ 

میڈیا رپورٹ کے مطابق آج بدھ کے روز عالمی منڈی میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد کمی کے بعد 3,979.41 ڈالر فی اونس پر آ گئی ، اس سے قبل گزشتہ سیشن میں سونا 3,942.99 ڈالر فی اونس تک گر گیا تھا، جو گزشتہ نومبر کے بعد اس کی کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔

اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز بھی کم ہو کر 3,992.70 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئے،  ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

مسلسل چوتھے ماہ گراوٹ، 13 برس کا بڑا ریکارڈ

سونے کی قیمت میں یہ کمی محض ایک روز کا رجحان نہیں بلکہ گزشتہ روز اس سہ ماہی کے دوران سونے نے تقریباً 13 برس کی سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی، جبکہ مسلسل چوتھے ماہ بھی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہا۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال عالمی سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے، محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے سونے کی مانگ اس وقت دباؤ میں ہے، کیونکہ سرمایہ کار زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔

ڈالر کی مضبوطی کیوں سونے پر بھاری پڑ رہی ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور ٹریژری ییلڈز میں اضافہ سونے کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجوہات ہیں۔

مارکیٹ تجزیہ کار ایلیا اسپیوک کے مطابق جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے طلب میں کمی آتی ہے اور قیمتیں نیچے آ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :عالمی منڈی میں بڑا جھٹکا! سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی مارکیٹ پر اثر ڈال رہے ہیں،  کلیولینڈ فیڈ کی صدر بیتھ ہیمک نے اشارہ دیا ہے کہ اگر مہنگائی میں خاطر خواہ کمی نہ آئی تو شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی معاشی اعداد و شمار پر

اس وقت مارکیٹ میں ستمبر کے دوران شرح سود میں اضافے کے تقریباً 67 فیصد امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں،  اسی لیے سرمایہ کار امریکی روزگار سے متعلق آئندہ معاشی اعداد و شمار کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ یہی اعداد و شمار مستقبل میں سونے کی قیمتوں کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکی معیشت مضبوط رہی اور فیڈ نے سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھی تو سونے پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے تاہم کمزور معاشی اعداد و شمار کی صورت میں قیمتوں میں دوبارہ بہتری بھی ممکن ہے۔

خام تیل مہنگا، چاندی بھی سستی

دوسری جانب عالمی سیاسی کشیدگی نے خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے،  ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث سفارتی پیش رفت کے امکانات کم ہوئے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ادھر چاندی کی قیمت 1.4 فیصد کمی کے بعد 57.75 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جبکہ پلاٹینم 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 1,542 ڈالر اور پیلاڈیم 0.4 فیصد کمی کے بعد 1,199.34 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوتا رہا۔

عام صارفین پراثرات

اگر عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہتا ہے تو آنے والے دنوں میں کئی ممالک کی مقامی مارکیٹوں میں بھی سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے تاہم مقامی قیمتوں کا انحصار عالمی نرخوں کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقامی ریٹ، ٹیکسز اور درآمدی اخراجات پر بھی ہوتا ہے۔

اسی لیے سونا خریدنے یا سرمایہ کاری کا ارادہ رکھنے والے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئندہ چند دنوں میں عالمی معاشی صورتحال، امریکی فیڈرل ریزرو کے فیصلوں اور ڈالر کی حرکت پر گہری نظر رکھیں، کیونکہ یہی عوامل مستقبل میں سونے کی قیمت کا رخ طے کریں گے۔

editor

Related Articles