ایران نے اسرائیل کے تجارتی و عسکری مرکز تل ابیب پر ہائپرسونک میزائلوں سے لیس ایک بڑے حملے کا دعویٰ کیا ہے جس سے تل ابیب میں بڑے پیمانے پر تباہی کا شاخسانہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائی “آپریشن وعدہ صادق 4” کی 55ویں لہر کے طور پر انجام دی گئی، جس کا بنیادی مقصد اسرائیل کی دفاعی اور فضائی صلاحیتوں کو مفلوج کرنا تھا۔ اس حملے میں پہلی بار جدید ترین ہائپرسونک میزائل “فتح” کے ساتھ ساتھ عماد اور قدر میزائلوں اور خودکش ڈرونز کا ایک بڑا غول استعمال کیا گیا، جنہوں نے تل ابیب اور بن گوریون ایئرپورٹ کے گردونواح میں اہم مراکز کو نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں خاص طور پر “اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز” اور فضائی ریفیولنگ سپورٹ سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا تاکہ اسرائیلی فضائیہ کی آپریشنل صلاحیت کو براہِ راست متاثر کیا جا سکے۔
صرف اسرائیل ہی نہیں، بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی ان ایرانی حملوں کی زد میں آئے ہیں، جہاں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس ایندھن کے میزائلوں ذوالفقار اور ڈیزفل کے ساتھ ساتھ جدید سمارٹ ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔
ایرانی حکام کا موقف ہے کہ یہ حملے طاقت کے توازن کو بدلنے اور دشمن کی عسکری تیاریوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ناگزیر تھے۔ دوسری جانب، برطانوی میڈیا نے ایرانی قیادت کے حوالے سے ایک نیا دعویٰ کیا ہے جس میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودگی کے مقام پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ کے حالات اس قدر نازک ہیں، پاکستان میں بھی مقامی سطح پر انتظامی امور کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں، جن میں پودوں کی خریداری کے لیے 31 لاکھ روپے کے فنڈز کے استعمال جیسے معاملات توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔