افغانستان میں سیاسی صورتحال نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے جہاں نوجوانوں کی جانب سے ‘نیشنل موبلائزیشن فرنٹ’ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس نئے اتحاد کا مقصد افغان طالبان کی پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی کے خلاف مزاحمت کو منظم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تنظیم کا قیام طالبان کی مبینہ جابرانہ پالیسیوں، سخت گیر قوانین اور عوامی آزادیوں پر قدغنوں کے ردعمل میں عمل میں آیا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ افغانستان کی بڑی آبادی سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے اور نوجوان نسل خود کو بے اختیار محسوس کر رہی ہے۔
فرنٹ کے رہنماؤں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ‘اب طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا’۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان اپنی پالیسیوں کے ذریعے ملک کو عالمی سطح پر تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں اور داخلی سطح پر بھی حالات کو مزید خراب کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ میڈیا پر سخت سنسر شپ نافذ ہے اور معلومات تک رسائی محدود کر دی گئی ہے، تاہم اس کے باوجود مختلف ذرائع سے ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جن میں مبینہ طور پر تشدد، کوڑے مارنے اور اسلحے کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فرنٹ کا کہنا تھا کہ عوام اب ان حالات سے تنگ آ چکے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔
نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح ماضی میں سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کی گئی تھی، اسی طرح آج کے حالات میں بھی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔
تنظیم نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں موجودہ دور ‘تاریک ترین ادوار’ میں سے ایک ہے، جہاں ہزاروں نوجوان مختلف علاقوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان عوام کے نمائندہ نہیں بلکہ ایک مسلح گروہ کے طور پر اقتدار پر قابض ہیں۔
عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے کہا کہ دنیا کے ممالک طالبان کو افغانستان کے عوام کا حقیقی نمائندہ نہ سمجھیں اور افغان عوام کی آواز کو سنا جائے۔ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ‘اس سرزمین کے بیٹے اور بیٹیاں دوبارہ اٹھیں گے اور اپنے وطن کو ایک آزاد، پرامن اور خوشحال ملک بنائیں گے’۔
واضح رہے کہ اگرچہ اس تنظیم کی حقیقی طاقت اور عوامی حمایت کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے، تاہم یہ پیش رفت ملک میں ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کی نشاندہی ضرور کرتی ہے۔