مودی کی دوغلی پالیسیاں بے نقاب ، بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار

مودی کی دوغلی پالیسیاں بے نقاب ، بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار

عالمی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی اور سفارتی حکمت عملی عالمی سطح پر شدید تنقید کا شکار ہو گئی ہے۔ خلیجی جنگ اور خطے میں جاری بحران کے دوران مودی کی بدترین سفارتکاری نے بھارت کے عالمی تعلقات کا پردہ چاک کر دیا اور ملک کے اثر و رسوخ کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کی عالمی دوستیاں محض دعوؤں تک محدود رہیں اور دنیا بھر میں بھارت بطور ریاست اثر و رسوخ سے محروم ہو گیا۔ خلیجی بحران کے دوران روسی تیل کی خریداری کے لیے امریکا کے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اجازت طلب کرنا اور ایران سے امداد کی التجا کرنا، مودی کی سیاسی ساکھ اور عالمی اعتبار کو کمزور کرنے والا اقدام ثابت ہوا۔

بھارتی عوام نے بھی بحران کے دوران کمزور مذاکرات اور سیاسی دعوؤں کے تضاد پر سوال اٹھا دیے۔ خلیجی ممالک میں مقیم تقریباً نو ملین بھارتیوں میں سے پچاس ہزار افراد کی وطن واپسی کے امکانات نے بھارت کے زرمبادلہ اور فلاحی اخراجات پر براہِ راست اثر ڈالنے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کی سیاست کا خاموش کھلاڑی ، علی لاریجانی کے اثر و رسوخ کی اندرونی کہانی

گذشتہ تین سالوں میں بھارت کی اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے باوجود ایران کے لیے بھارت محض ایک غیر موثر یا نادان دوست کے طور پر سامنے آیا۔ عالمی ماہرین کے مطابق مودی کی دھونس جمانے والی پالیسی اور خطے میں اثر و رسوخ کا دعویٰ بحران کے دوران مکمل طور پر دم توڑ گیا ہے۔

بلومبرگ نے رپورٹ میں مزید کہا کہ مودی کی دوغلی پالیسیاں، بلند و بانگ دعوے اور دکھاوے پر مبنی ناقص سفارتکاری کی عالمی بازگشت بھارت کی رسوائی اور تنہائی کا سبب بن چکی ہے۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے خطے میں اپنی ساکھ کھو دی ہے اور مستقبل میں اس کے عالمی تعلقات کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

مودی کی پالیسیاں، جو عوام میں خود کو مضبوط رہنما کے طور پر پیش کرتی تھیں، بحران کے دوران بے نقاب ہو گئیں اور بھارت کے بین الاقوامی تعلقات میں ایک نیا چیلنج پیدا ہو گیا ہے۔

editor

Related Articles