ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان سینئر صحافی حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے کابل میں ہونے والے حالیہ حملے سے متعلق اہم حقائق بیان کیے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ اس کارروائی کا اصل ہدف افغان طالبان کا گولہ بارود اور ڈرون کا ایک ڈپو تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سویلین ہلاکتوں سے متعلق پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا مکمل طور پر بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہے انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد گولہ بارود کے پھٹنے سے ہونے والے دھماکوں کی شدت اور تسلسل کو پوری دنیا نے دیکھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں بڑی مقدار میں اسلحہ موجود تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کو جان بوجھ کر غلط رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ حقائق کو مسخ کیا جا سکےانہوں نے کہا کہ زمینی حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نشانہ بننے والی جگہ عسکری نوعیت کی تھی جہاں اسلحہ اور جدید ڈرون طیارے ذخیرہ کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے اکثر جنگجو باقاعدہ فوجی وردی کے بجائے سویلین لباس استعمال کرتے ہیں ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ طالبان منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو ایک نہایت سنگین اور تشویشناک پہلو ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرون افغان طالبان کو بھارت فراہم کر رہا ہے، جو علاقائی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے کا سبب بن رہا ہے۔پاکستان کی افغان عوام سے کوئی دشمنی نہیں ہے، بلکہ افغان عوام خود دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور یہ بھارتی سرپرستی اور فنڈنگ سے چلنے والے دہشتگرد گروپس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور یہ جنگ دہشتگردوں اور ان کے ہینڈلرز نے پاکستان پر مسلط کی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ اب تک افغانستان میں 81 مقامات پر فضائی حملے کیے جا چکے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ خارجی نور ولی، خارجی بشیر زیب اور خارجی گل بہادر افغانستان میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دوست ممالک سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا دنیا میں کوئی ان عناصر کی ضمانت دے سکتا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پہلے جب پاکستان اس معاملے پر بات کرتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ صبر کریں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خود صبر کریں۔