پاکستان کا امریکی انٹیلی جنس رپورٹ پر رد عمل،میزائل پروگرام کو خالصتا دفاعی قرار دے دیا

پاکستان کا امریکی انٹیلی جنس رپورٹ پر رد عمل،میزائل پروگرام کو خالصتا دفاعی قرار دے دیا

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے امریکی عہدیدار کی جانب سے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق دیے گئے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کی تزویراتی صلاحیتیں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی حامل ہیں اور ان کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ  طاہر اندرابی نے ذرائع ابلاغ کے سوالات کے جواب میں کہا کہ پاکستان اپنی میزائل صلاحیتوں کو کسی جارحانہ عزائم کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ یہ صرف دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کو دوٹوک انداز میں رد کیا کہ پاکستان کی صلاحیتیں کسی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ پاکستان کا میزائل پروگرام بین البراعظمی حدِ مار سے کہیں کم ہے اور یہ مکمل طور پر قابلِ اعتبار کم از کم بازدار قوت کے اصول پر قائم ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکا کے لیے بڑا خطرہ قرار دی گئی طاقتوں میں ’پاکستان‘ کا نام بھی شامل، امریکی انٹیلی جنس رپوٹ منظرعام پرآگئی

اس کے برعکس بھارت کی جانب سے بارہ ہزار کلومیٹر سے زائد حدِ مار رکھنے والی میزائل صلاحیتوں کی ترقی کو ایک تشویشناک رجحان قرار دیا گیا، جو علاقائی سلامتی کے دائرہ کار سے آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔

بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ باہمی احترام، عدم امتیاز اور حقائق پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے حساس تزویراتی ماحول کے پیش نظر ایک متوازن اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق ایسا طرزِ عمل ہی خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے  اور پاکستان اسی اصول کے تحت اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *