ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نئے سال (نوروز) کے موقع پر قوم اور عالمی برادری کے نام اپنے خصوصی پیغام میں واضح کیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کی پالیسی صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ خطے میں کسی قسم کی جنگ کا خواہاں نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر پزشکیان نے اپنے بیان میں مذہبی پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کو مذہبی طور پر ‘ممنوع’ (حرام) قرار دے دیا ہے۔ صدر کے مطابق، اس فتوے کے بعد کوئی بھی ایرانی حکومتی اہلکار یا ادارہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ریاست کی بنیادی پالیسی کے خلاف ہے۔
ایران نے امن کے قیام کے لیے تمام اسلامی ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ سیکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دینے کی تجویز دی ہے تاکہ بیرونی مداخلت کا خاتمہ ہو سکے۔ صدر نے کہا کہ ایران تمام اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے اور خطے کی موجودہ مشکلات کی بڑی وجہ دشمن ممالک کی مداخلت ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ ایران کے فضائی دفاع یا بحریہ کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے درج ذیل نکات پر زور دیاعباس عراقچی نے امریکی بیانات کا موازنہ ‘ویتنام جنگ’ کے غلط دعوؤں سے کرتے ہوئے کہا کہ زمین پر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے ایک جدید ایف-35 طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، جبکہ امریکی بحری بیڑا ‘گیرالڈ فورڈ’ بھی ایرانی حملوں کے نتیجے میں ناکارہ ہو چکا ہے۔
ایران کے اس بیان کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف تہران اپنے دفاعی عزم کا اظہار کر رہا ہے اور دوسری طرف مذاکرات کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
مزید پڑھیں: ایف-35 : ایرانی دفاعی نظام نے ‘ناقابلِ تسخیر’ امریکی اسٹیلتھ طیارے کو مار گرایا

