عید الفطر کے پرمسرت موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے عوام کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی الحال مزید کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا تیل کی قیمت میں اضافے کا 24 روپے فی لیٹر بوجھ حکومت برداشت کریگی
کیونکہ حکومت کا بنیادی مقصد غریب اور متوسط طبقے کو معاشی ریلیف فراہم کرنا ہے۔
وزیر اعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ عید کے پرمسرت لمحات میں پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز مسترد کر دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہیں کیا جائیگا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے دباؤ کے باوجود ملکی سطح پر قیمتوں کو برقرار رکھا جائے گا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رہنے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے میں مدد ملے گی۔ وزیرِ اعظم نے ایک بار پھر واضح کیا کہ حکومت اپنے اخراجات کم کر کے عوام پر پڑنے والے بوجھ کو خود برداشت کرے گی۔
اگرچہ قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، تاہم حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کے قیمتی زرمبادلہ کو بچانے کے لیے ایندھن کا استعمال احتیاط سے کریں۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگرچہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 72 ڈالر سے بڑھ کر 158 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں اور حکومتی اداروں نے پٹرول میں 50 روپے جبکہ ڈیزل میں 74 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی تھی، لیکن انہوں نے عوامی مفاد میں اس بوجھ کو حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کا حکم دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ تاریخ کے اس بدترین مہنگائی کے طوفان میں محروم طبقے کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے وفاقی حکومت اب تک پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 127 روپے فی لیٹر تک کا بوجھ خود اٹھا کر عوام کو ریلیف فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے حکومتی سطح پر سخت کفایت شعاری اور سادگی مہم کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خود روزانہ کی بنیاد پر ان اقدامات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔
وزیراعظم نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں بچت کو اپنائیں اور پٹرول کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے کار پولنگ جیسے طریقوں پر عمل کریں تاکہ ملک کو درپیش اس عارضی معاشی آزمائش سے کامیابی کے ساتھ نکالا جا سکے۔
انہوں نے عید کی مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کا جلد پرامن حل نکلے گا جس سے عالمی معیشت اور امن و استحکام کو دوبارہ دوام ملے گا۔