بھارت- اسرائیل گٹھ جوڑ پر بھارتی پارلیمنٹ میں ہنگامہ، مودی کو سخت تنقید کا سامنا

بھارت- اسرائیل گٹھ جوڑ پر بھارتی پارلیمنٹ میں ہنگامہ، مودی کو سخت تنقید کا سامنا

بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے تعلقات اور وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ بیانات پر بھارتی پارلیمنٹ میں ہنگامہ خیز بحث چھڑ گئی، جہاں اپوزیشن نے مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق مفاد پرست پالیسیوں اور مبینہ طور پر یہودی نظریات مسلط کرنے کے الزامات پر پارلیمنٹ میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ بھارتی رکن اپوزیشن راجیو شکلا نے بھارتی خارجہ پالیسی پر سخت وار کرتے ہوئے اسرائیل کو “فادر لینڈ” قرار دینے پر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا۔

راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ امریکہ میں مقیم بھارتیوں کو بھی یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ انڈیا کے “مدر لینڈ” اور اسرائیل کے “فادر لینڈ” ہونے کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے سابق بی جے پی رکن وجیندر سنگھ کے حوالے سے کہا کہ مودی کے بیان کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ اسرائیل بھارت کا “باپ” ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کو واضح کرنا چاہیے کہ کب سے انہوں نے یہودیوں کو اپنا اجداد مان لیا ہے۔ راجیو شکلا نے بھارت کی غیر وابستہ خارجہ پالیسی ترک کرنے اور دوسروں کی جنگوں میں الجھنے کی پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد سمجھ سے باہر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملنے کا دعویٰ جھوٹا نکلا، مودی حکومت پھر رسوا

اپوزیشن رہنما نے یہ بھی کہا کہ مودی کو خود جا کر بھارت کو اس جنگ کے لیے وقف کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ ان کے بقول موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ایک ایک جہاز نکلوانے کے لیے ایران کو فون کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب عالمی ماہرین کے مطابق مودی اپنے سیاسی مفاد کے لیے اسرائیل سے تعلقات بڑھانے کی خاطر بھارت کی نام نہاد خودمختاری کو گروی رکھ چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت-اسرائیل گٹھ جوڑ کے لیے اپنے اجداد تبدیل کرنے جیسی پالیسی مودی حکومت کی منافقانہ اور مفاد پرستانہ حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔

Related Articles