واٹس ایپ پر پرائیویسی کا تنازع، ٹیلیگرام کے بانی کے سخت الزامات

واٹس ایپ پر پرائیویسی کا تنازع، ٹیلیگرام کے بانی کے سخت الزامات

ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت ایک نئی بحث نے زور پکڑ لیا ہے جب ٹیلی گرام  کے بانی پاول ڈوروف نے واٹس ایپ کی سیکیورٹی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔

ڈوروف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ واٹس ایپ کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کو صارفین کے سامنے جس طرح پیش کیا جاتا ہے، وہ مکمل طور پر درست تصویر نہیں دکھاتی۔ ان کے مطابق یہ دعوی ’ایک بڑا فراڈ‘ بن چکا ہے جس سے اربوں صارفین کو غلط تاثر مل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چین کا شینژو 23 مشن خلا میں روانہ، چاند مشن کی تیاری تیز

میڈیا ذرائع کے مطابق ڈوروف نے ایک امریکی مقدمے کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی اور ڈیٹا ہینڈلنگ پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ٹیلیگرام میں اب تک کسی بھی صارف کے نجی پیغامات کسی تیسرے فریق کو فراہم نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب واٹس ایپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ٹیکنالوجی کے تحت پیغامات صرف بھیجنے والے اور وصول کرنے والے ہی پڑھ سکتے ہیں، اور کمپنی خود بھی ان تک رسائی نہیں رکھتی۔

یہ بھی پڑھیں :گوگل ڈیٹا رپورٹ، عام الفاظ بھی لوگوں کے لیے مشکل ثابت ہونے لگے

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں ڈیجیٹل پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی پہلے سے ہی بڑی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ٹیک ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ صرف انکرپشن نہیں بلکہ بیک اپس، کلاؤڈ اسٹوریج اور ڈیٹا ہینڈلنگ کے طریقوں میں موجود ممکنہ کمزوریاں ہیں۔

یہ ایک بڑی پرائیویسی وار ہے جس میں دو بڑے میسجنگ پلیٹ فارم اپنی اپنی سیکیورٹی کو سب سے بہتر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

editor

Related Articles