لیتھیم نکالنے میں بڑی پیش رفت، نئی ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کر دیا

لیتھیم نکالنے میں بڑی پیش رفت، نئی ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کر دیا

الیکٹرک گاڑیوں اور ونڈ و سولر انرجی سسٹمز کے لیے بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے دنیا میں لیتھیم کی مانگ کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ مگر اس وقت لیتھیم کی پیداوار ایک مہنگا، سست اور ماحول پر اثر ڈالنے والا عمل سمجھا جاتا ہے۔

اب اس چیلنج کا ایک نیا حل سامنے آیا ہے۔کولمبیا یونیورسٹی کے اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے محققین نے ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو لیتھیم نکالنے کے عمل کو زیادہ تیز، زیادہ صاف اور زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :گوگل ڈیٹا رپورٹ، عام الفاظ بھی لوگوں کے لیے مشکل ثابت ہونے لگے

یہ تحقیق معروف جرنل (Joule) میں شائع ہوئی ہے، جس میں ایک نیا طریقہ پیش کیا گیا ہے جسے ’سوئچ ایبل سالوینٹ سلیکٹو ایکسٹریکشن‘ یا ایس3ای(S3E) کا نام دیا گیا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی ایک خاص درجہ حرارت پر ردعمل دینے والے سالوینٹ کا استعمال کرتی ہے جو زیر زمین نمکین پانی سے براہ راست لیتھیم کو الگ کر لیتا ہے۔ یہ عمل اس وقت بھی مؤثر رہتا ہے جب لیتھیم کی مقدار بہت کم ہو یا وہ دوسرے معدنیات کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:چین کا شینژو 23 مشن خلا میں روانہ، چاند مشن کی تیاری تیز

تحقیقی نتائج کے مطابق اس نظام نے تجربات میں حیران کن کارکردگی دکھائی۔ لیتھیم کو سوڈیم کے مقابلے میں 10 گنا اور پوٹاشیم کے مقابلے میں 12 گنا زیادہ تیزی سے الگ کیا گیا۔

مزید یہ کہ یہ طریقہ میگنیشیم جیسے مشکل عناصر کو بھی مؤثر طریقے سے ہٹا دیتا ہے، جو عام طور پر لیتھیم نکالنے کے عمل میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں لیتھیم کی پیداوار کو نہ صرف سستا بنا سکتی ہے بلکہ ماحول پر پڑنے والے اثرات کو بھی کم کر سکتی ہے۔

editor

Related Articles