ملک کی سب سے بڑی تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی او جی ڈی سی ایل نے ضلع کوہاٹ میں گیس کے ایک بڑے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے، جسے ملکی توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس نئے ذخیرے سے یومیہ تقریباً ‘2 کروڑ 65 لاکھ’ اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس حاصل ہونے کی توقع ہے، جو نہ صرف مقامی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گی بلکہ قومی گیس سپلائی میں بھی نمایاں اضافہ کرے گی۔
ترجمان کے مطابق یہ اہم دریافت تھل بلاک میں واقع ‘بلیٹنگ-1’ ایکسپلورٹری کنویں سے ہوئی ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی اور جدید سروے طریقوں کے ذریعے کھدائی کا عمل مکمل کیا گیا۔ ابتدائی ٹیسٹ کے نتائج نے گیس کی بھرپور موجودگی کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد اس مقام کو مزید ترقی دینے کے منصوبے زیر غور ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس دریافت سے نہ صرف توانائی کے بحران میں کمی آئے گی بلکہ ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب اور گیس کی قلت نے صنعتی اور گھریلو صارفین کو شدید متاثر کیا ہے، ایسے میں اس نوعیت کی دریافتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی ترقی سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا، جہاں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور علاقے میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گیس کی ترسیل کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تیاری پر بھی کام جلد شروع کیا جائے گا تاکہ اس ذخیرے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
مزید برآں، حکومتی حلقوں نے اس دریافت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت ملکی توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اگر اسی رفتار سے تلاش کا عمل جاری رکھا جائے تو آنے والے برسوں میں پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ خود پورا کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔
او جی ڈی سی ایل نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ملک کے مختلف حصوں میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل مزید تیز کرے گی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نئے ذخائر دریافت کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔ کمپنی کے مطابق اس دریافت سے حاصل ہونے والی گیس جلد قومی گرڈ میں شامل کی جائے گی تاکہ عوام کو اس کا براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔