امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں شہری سراپا احتجاج ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ میں ’نو کنگز‘ احتجاجی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کے تحت شہریوں نے صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی اور دیگر متنازع اقدامات کے خلاف سڑکوں پر مظاہرے کیے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں مظاہرین نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ اور صدر کی دیگر پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا، مظاہرین نے ’نو کنگز‘ کے بینرز اٹھا رکھے تھے اور صدر ٹرمپ کو امریکی تاریخ کا سب سے زیادہ تباہ کن صدر قرار دیا۔
اسی طرح فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ، اٹلانٹا اور جارجیا میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، جہاں پرامن مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی حالیہ پالیسیوں کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ صدر فوری طور پر متنازع فیصلے واپس لیں۔
دوسری جانب برطانوی دارالحکومت لندن میں بھی نو کنگز تحریک کے تحت شہریوں نے مارچ کیا اور ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں اور جنگ کے امکانات کے خلاف احتجاج کیا۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بھی صدر کے خلاف مظاہرہ کیا گیا، جہاں مظاہرین نے ’نو کنگز‘ اور ’کوئی آمر نہیں‘ جیسے نعرے بلند کیے اور عالمی پالیسیوں پر انتظامیہ کی سخت تنقید کی۔
یہ احتجاجی تحریک عالمی سطح پر صدر ٹرمپ کی متنازع پالیسیوں کے خلاف شہریوں کی بڑھتی ہوئی ناراضگی کا مظہر ہے اور اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لاکھوں لوگ امن، انسانی حقوق اور شفاف حکمرانی کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔