عالمی سفارت کاری کے افق سے ایک انتہائی اہم اور مثبت خبر سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی اور فعال کردار کی بدولت ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں غیر معمولی پیشرفت ہو رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اب خاتمے کے قریب پہنچ چکی ہے اور بہت جلد ایک تاریخی معاہدہ یا “ڈیل” طے پا سکتی ہے جو خطے میں امن و امان کی نئی راہ متعین کرے گی۔
صدر ٹرمپ نے اس اہم کامیابی کا سہرا پاکستان کے سر باندھتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستانی سفارتخانوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے کے ایک موثر پل کا کردار ادا کیا ہے، جس کی بدولت دونوں حریف ممالک اب مذاکرات کی میز پر ایک دوسرے کے قریب آ گئے ہیں۔
اس مثبت سفارتی ماحول کا اثر سمندری حدود میں بھی دیکھا جا رہا ہے جہاں ایرانی قیادت نے خیر سگالی کے طور پر اب تک بیس پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے باآسانی گزرنے کی خصوصی اجازت دی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کا سفارتی وقار عالمی سطح پر ایک بار پھر بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور اس صورتحال کو پاکستان کی ایک عظیم ترین سفارتی فتح قرار دے رہے ہیں کیونکہ ایک ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ جنگ کے بادلوں میں گھرا ہوا تھا، پاکستان نے اپنی متوازن پالیسی کے ذریعے ناصرف تناؤ کو کم کیا بلکہ دو بڑی طاقتوں کو ایک ممکنہ معاہدے کی طرف راغب کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ اگر یہ ڈیل مکمل ہو جاتی ہے تو اس سے ناصرف عالمی منڈی میں استحکام آئے گا بلکہ پاکستان کے لیے بھی معاشی اور دفاعی لحاظ سے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر کے نازیبا کلمات پر مولانا فضل الرحمٰن کا شدید ردِعمل: ڈونلڈ ٹرمپ کو نیا نام دے دیا

