قدرتی آفت یا ناقص انفراسٹرکچر؟ خیبر پختونخوا میں بارشوں سےمعصوم بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق، 47 زخمی

قدرتی آفت یا ناقص انفراسٹرکچر؟ خیبر پختونخوا میں بارشوں سےمعصوم بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق، 47 زخمی

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں حالیہ بارشوں نے شدید تباہی مچائی ہے، جہاں مختلف حادثات کے نتیجے میں ‘8’ معصوم بچوں اور ایک خاتون سمیت ‘9’ افراد جاں بحق جبکہ ’47’ زخمی ہو گئے ہیں۔

پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق، جانی نقصان کے زیادہ تر واقعات بنوں اور شمالی وزیرستان میں گھروں کی چھتیں اور بوسیدہ دیواریں گرنے کے باعث پیش آئے۔

رپورٹ کے مطابق، خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات، ہنگو، نوشہرہ، ٹانک، باجوڑ، کرک، پاراچنار، ملاکنڈ، اور جنوبی وزیرستان میں گزشتہ ’24’ گھنٹوں سے وقفے وقفے سے ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنوں میں بارش کی تباہ کاری، کچے گھر کی چھت گرنے سے 3 معصوم بچے جاں بحق، 2 شدید زخمی

 بارشوں کی شدت کے باعث اب تک ‘6’ مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے کئی خاندان کھلے آسمان تلے آگئے ہیں۔ زخمی ہونے والے ’47’ افراد کو فوری طور پر مقامی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ منگل تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب، بارشوں کا یہ سلسلہ پنجاب تک بھی پھیل گیا ہے، جہاں سرگودھا، بھکر، لودھراں، وہاڑی، چنیوٹ، حافظ آباد اور بہاولپور سمیت دیگر اضلاع میں بادل خوب برسے ہیں۔ پنجاب کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو خیمے اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔

 حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بارش کے دوران بوسیدہ عمارتوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ واضح رہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں کے غیر معمولی پیٹرن سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

Related Articles