سوشل میڈیا اور یوٹیوب سے کمائی کرنے والے افراد سے متعلق حکومت کا بڑا فیصلہ

سوشل میڈیا اور یوٹیوب سے کمائی کرنے والے افراد سے متعلق حکومت کا بڑا فیصلہ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا سے ہونے والی آمدنی کو ایک مخصوص ٹیکس فریم ورک کے تحت لانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جس کے تحت یوٹیوب اور دیگر منیٹائزڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی اب باقاعدہ نگرانی میں آ گئی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان میں ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہولڈرز جن کے کم از کم 50 ہزار سبسکرائبرز ہوں، انہیں کاروبار کے زمرے میں شمار کیا جائے گا اور ان کی آمدنی پر ٹیکس عائد ہوگا۔

ایس آر او 546(I)/2026 اور ایس آر او 545(I)/2026 کے تحت جاری کیے گئے مجوزہ ترامیم میں سوشل میڈیا سے معاوضہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے ٹیکس کے خصوصی طریقہ کار کی تجویز دی گئی ہے۔ اس میں پاکستان کے رہائشی اور غیر رہائشی دونوں افراد شامل ہیں جو پاکستانی صارفین کی سرگرمیوں سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔

مجوزہ قواعد کے مطابق قابلِ ٹیکس آمدنی وہ کل رقم ہوگی جو سوشل میڈیا مواد سے حاصل کی جائے گی، جس میں سے زیادہ سے زیادہ 30 فیصد اخراجات منہا کرنے کی اجازت ہوگی۔

یہ ٹیکس قوانین ان تمام افراد پر لاگو ہوں گے جو پاکستان میں ویوز، اشتہارات یا سبسکرپشنز کے ذریعے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔

اہم پیش رفت کے طور پر ایف بی آر نے یوٹیوب ویوز کے لیے ایک معیار بھی مقرر کیا ہے، جس کے تحت فی ہزار ویوز کے لیے 195 روپے آمدنی کا تخمینہ لگایا جائے گا، جس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے ایف بی آر نے ڈیجیٹل نیشنل کارگو ٹریکنگ سسٹم متعارف کرادیا

مجوزہ مسودے کے تحت ڈیجیٹل کریئیٹرز کو سہ ماہی بنیادوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ اس آمدنی کو سالانہ ٹیکس ریٹرن کے ایک مخصوص حصے میں ظاہر کرنا بھی لازمی ہوگا۔ اگر ظاہر کی گئی آمدنی مقررہ فارمولے سے کم ہوئی تو ٹیکس کمشنر فرق کی وصولی کر سکتا ہے۔

غیر ملکی ڈیجیٹل کریئیٹرز اور نان ریزیڈنٹس کے لیے بھی ٹیکس کی حد مقرر کی گئی ہے، جس کے مطابق اگر ایک ٹیکس سال میں 50 ہزار یا ایک سہ ماہی میں 12 ہزار 250 پاکستانی صارفین کے ساتھ انٹرکشن ہو تو ٹیکس لاگو ہوگا۔

اس اقدام کے بعد یوٹیوبرز، انفلوئنسرز، کانٹینٹ کریئیٹرز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جو پاکستانی ناظرین سے آمدنی حاصل کرتے ہیں، انہیں سخت ٹیکس نگرانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ حکومت ڈیجیٹل معیشت کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *