وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت نے بجٹ 2026 کو عوامی ریلیف، مضبوط معیشت اور ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
حکومت کے مطابق یہ بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دینے اور پاکستان کی معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق دنیا بھر میں معاشی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کئی ممالک سبسڈیز ختم کر رہے ہیں اور نئے ٹیکس عائد کر رہے ہیں، تاہم پاکستان میں وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ یہ بجٹ صوبوں کے ساتھ مل کر پیش کیا گیا ہے جو معیشت کے ہر اہم شعبے کے لیے اعتماد، استحکام اور ترقی کا پیغام دیتا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا پاکستان کی دفاعی قوت کی معترف ہے، اور پاکستانی فورسز نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیان المرصوص کی کامیابی ہماری روشن تاریخ کا سنہری باب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنی کوششوں سے ایران اور امریکا کو ایک میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی، اور امریکی و ایرانی صدور نے متعدد بار وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے بطور ثالث کردار کی تعریف کی ہے، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
بجٹ 2026 میں تنخواہ دار طبقے کو نمایاں ریلیف دیا گیا ہے۔ حکومت نے 10 فیصد سرچارج مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے تقریباً 65 ہزار روپے فائدہ ہوگا۔ سالانہ 32 سے 41 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے تقریباً ایک لاکھ دو ہزار پانچ سو روپے کا فائدہ ہوگا۔ سالانہ 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار روپے کا فائدہ ہوگا۔ سالانہ 56 سے 70 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے تقریباً دو لاکھ چھتیس ہزار روپے کا فائدہ ہوگا۔ جبکہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن والوں کے لیے ٹیکس ریٹ برقرار رکھا گیا ہے مگر 10 فیصد سرچارج ختم ہونے سے انہیں تقریباً دو لاکھ ستاون ہزار روپے کا ریلیف ملے گا۔
حکومت نے وضاحت کی ہے کہ پہلے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر براہِ راست 35 فیصد ٹیکس لگ جاتا تھا، تاہم اب 41 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کے درمیان دو نئی ٹیکس سلیبز متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ اچانک زیادہ ٹیکس کا بوجھ نہ پڑے۔ اب اس آمدن پر 29 فیصد اور 32 فیصد کے ریٹس لاگو ہوں گے، جبکہ 35 فیصد ٹیکس صرف 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر لاگو ہوگا۔
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے بھی 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
حکومت نے ایکسپورٹ اور صنعت کے شعبے میں بھی بڑے ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ ایکسپورٹرز کے لیے ایڈوانس اور منیمم ٹیکس 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ 500 ملین روپے تک کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس مکمل ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 500 ملین روپے سے زائد کاروبار کرنے والوں کے لیے سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دیا گیا ہے۔
پراپرٹی سیکٹر میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے۔ 5 کروڑ روپے تک اور اس سے زیادہ مالیت کی پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد اور 5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔ جائیداد کی خریداری پر بھی ٹیکس کم کیا گیا ہے، جہاں مختلف سلیبز میں شرح 1.5 فیصد اور 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دی گئی ہے۔ فائلرز کے لیے جائیداد خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پراپرٹی پر عائد 1 فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس مکمل طور پر ختم کرکے 0 فیصد کر دیا گیا ہے۔
شپنگ انڈسٹری پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ خواتین اور عوامی صحت کے حوالے سے سینیٹری پیڈز، ٹیمپونز، کنڈومز اور مانع حمل ادویات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔
آئی ٹی اور فری لانسنگ سیکٹر کے لیے 0.25 فیصد انکم ٹیکس ریلیف برقرار رکھا گیا ہے جبکہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے آن لائن بین الاقوامی ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ریفائننگ سیکٹر میں براؤن فیلڈ ریفائنریز کی اپگریڈیشن اور امپورٹس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق یہ بجٹ عوامی ریلیف، معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور ایک خود انحصار پاکستان کی جانب اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔