وائٹ ہاؤس کا بڑا انکشاف: صدر ٹرمپ عرب ممالک سے جنگی اخراجات کی ادائیگی کا مطالبہ کر سکتے ہیں

وائٹ ہاؤس کا بڑا انکشاف: صدر ٹرمپ عرب ممالک سے جنگی اخراجات کی ادائیگی کا مطالبہ کر سکتے ہیں

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران اس بات کا واضح اشارہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی آپریشنز اور سیکیورٹی برقرار رکھنے کے بھاری اخراجات کا بوجھ اب عرب ممالک پر ڈالنے پر غور کر رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق، صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ جو ممالک خطے میں امریکی تحفظ سے مستفید ہو رہے ہیں، انہیں ان دفاعی کوششوں کے مالی اخراجات میں اپنا بھرپور حصہ ڈالنا چاہیے۔

امریکی انتظامیہ کی اس ممکنہ پالیسی کو “تحفظ کے بدلے ادائیگی” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو دوسرے ممالک کی سیکیورٹی پر صرف کرنے کے بجائے، اب متعلقہ علاقائی طاقتوں کو مالی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔
اس بیان نے عرب دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ اس سے مستقبل کے دفاعی معاہدوں اور خطے میں امریکی عسکری موجودگی کی شرائط تبدیل ہو سکتی ہیں۔

ترجمان کے مطابق، صدر کا موقف ہے کہ جو ممالک خطے میں امریکی دفاعی چھتری تلے محفوظ ہیں، انہیں اب اس تحفظ کی بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی۔

سفارتی ماہرین اسے ٹرمپ کی “امریکہ فرسٹ” (America First) پالیسی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد امریکہ کے عالمی دفاعی بجٹ میں کمی لانا اور اتحادیوں کو مالی طور پر خود کفیل بنانا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان کے باوجود اسرائیل کا ایرانی توانائی تنصیبات پر حملہ

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ اب دوسروں کی جنگوں پر بلا معاوضہ خرچ نہیں ہوگا، بلکہ متعلقہ علاقائی طاقتوں کو مالی ذمہ داری بانٹنی پڑے گی۔

اس بیان نے خلیجی ممالک سمیت پوری عرب دنیا میں کھلبلی مچا دی ہے، کیونکہ اس سے دہائیوں پرانے دفاعی معاہدوں کی بنیادیں ہل سکتی ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *