وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں تاجر کے قتل کا واقعہ نہایت افسوسناک ہے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملوث گینگ کو گرفتار کر لیا ہے، انہوں نے اسلام آباد پولیس کے سربراہ علی ناصر رضوی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
طلال چودھری نے بتایا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں معروف کاروباری شخصیت عامر شہزاد کو ڈکیتی کے دوران قتل کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ نہایت دکھ کا باعث ہے اور اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں غیر ملکی سفارتکاروں اور اہم شخصیات کی بڑی تعداد مقیم ہے، اس کے باوجود شہر میں امن و امان کی صورتحال دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں بہتر ہے، ان کا کہنا تھا کہ حکومت دارالحکومت کو ملک کا پہلا اسمارٹ شہر بنانے کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصور خان نامی ملزم کے سرغنہ کی سربراہی میں کام کرنے والا گینگ گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کے کچھ ارکان کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ گینگ میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ گروہ انتہائی خطرناک نوعیت کا تھا اور وارداتوں کے دوران بلٹ پروف جیکٹ کا استعمال کرتا تھا، یہ بین الصوبائی گینگ اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں جرائم میں ملوث رہا ہے۔
اس موقع پر آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے بتایا کہ اس کیس کو ایک امتحانی کیس کے طور پر لیا گیا جس میں پولیس کی صلاحیتوں کو جانچا گیا، انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد 137 کالز کے ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور 93 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں 31 چھاپے مارے گئے، جن میں راولپنڈی، اسلام آباد، چارسدہ اور مردان شامل ہیں، مردان سے گینگ کے مزید چار ارکان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر پانچ رکنی گینگ کے تمام افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔