ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران زمینی جنگ نہیں چاہتا، لیکن جانتا ہے کہ اپنا دفاع کیسے کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پڑوسی ممالک اور ان کی سالمیت کا احترام کرتا ہے، امریکا خلیجی ریاستوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کی سر زمین ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے، امریکی اڈے علاقائی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ کم ازکم 6 ماہ تک امریکا اسرائیل کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہیں، جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے معاملے کا فیصلہ ایران اور عمان کریں گے، جنگ کے بعد آبنائے ہرمز پُرامن آبی گزر گاہ ہو گی۔
قبل ازیں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے خلاف جاری جنگ ختم کرنے کو تیار ہیں اگر ان کی طرف سے مضبوط ضمانتیں دی جائیں کہ مستقبل میں وہ دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔
دریں اثنا ایرانی پارلیمانی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ خطے میں میری ٹائم رجیم تبدیلی کی صورت میں ٹرمپ کا رجیم چینج کا خواب پورا ہو گیا۔
سربراہ ایرانی پارلیمانی نیشنل سیکیورٹی کمیشن نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یقینی طور پر دوبارہ کھلے گی، لیکن آپ کے لیے نہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ہونے والے ایرانی جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری
دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں ، حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک 1937 افراد شہید ہوئے ہیں، شہداء میں 240 خواتین اور 212 بچے شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے پہلے مہینے میں 800 سے زائد فضائی حملے کیے، ایران پر حملوں میں تقریباً 16 ہزار مختلف ہتھیار استعمال کیے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران پر حملوں میں 4 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ان حملوں میں 2 ہزار سے زیادہ ایرانی فوجیوں اور کمانڈرز کو ختم کیا۔