دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے باوجود چین نے خود کو ایک ایسی منفرد اور مضبوط دفاعی پوزیشن میں کھڑا کر لیا ہے جہاں وہ آبنائے ہرمز (اسٹریٹ آف ہورموز) کی ممکنہ بندش کے اثرات کا مقابلہ کسی بھی دوسرے ایشیائی ملک کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں کر سکتا ہے۔
رطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق، جہاں جاپان، جنوبی کوریا اور بھارت جیسے ممالک توانائی بچانے کی اپیلیں کر رہے ہیں، وہیں چین اپنی ‘انرجی سیکیورٹی’ کی بدولت معاشی طور پر مستحکم نظر آتا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین کی اس مضبوطی کی ایک بڑی وجہ ملک میں ‘الیکٹرک گاڑیوں’ کا تیزی سے بڑھتا ہوا استعمال ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس چین نے الیکٹرک گاڑیوں کے ذریعے اتنا تیل بچایا جتنا وہ سعودی عرب یا عراق سے ایک سال میں درآمد کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں غیر ملکی تیل پر بیجنگ کا انحصار کم سے کم کر دیا ہے۔
مزید برآں، چین کا بجلی کا نظام بھی بڑی حد تک خود کفیل ہے کیونکہ وہ اپنی زیادہ تر بجلی مقامی کوئلے، شمسی توانائی (سولر) اور ہوا سے پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے سمندری راستوں سے تیل یا گیس کی فراہمی متاثر ہونے کی صورت میں بھی چینی صنعتوں پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔
واضح رہے کہ چین نے خاموشی سے تیل کے اتنے بڑے ذخائر قائم کر رکھے ہیں کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کئی ماہ تک اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، روس، وسطی ایشیا اور میانمار کے ساتھ بچھائی گئی تیل و گیس کی پائپ لائنوں کا وسیع نیٹ ورک چین کو سمندری راستوں پر مکمل انحصار سے بچاتا ہے۔
چین نے اپنی تیل کی درآمدات کو مختلف ممالک بشمول روس اور ایران میں تقسیم کر رکھا ہے، جس سے اس کی سپلائی لائن مزید محفوظ ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 کا یہ عالمی بحران چین کے لیے ایک امتحان تھا جس میں اس کی دور اندیشانہ حکمتِ عملی کامیاب ثابت ہو رہی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ اور زمینی سپلائی لائنز کا قیام وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے چین کو ایک ایسے ‘انرجی فورٹریس’ میں تبدیل کر دیا ہے جو عالمی بحرانوں کے جھٹکے برداشت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔