سرمایہ کار پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟ ’بلومبرگ‘ نے حیران کر دینے والا معاشی گراف پیش کردیا

سرمایہ کار پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟ ’بلومبرگ‘ نے حیران کر دینے والا معاشی گراف پیش کردیا

پاکستان کے انتہائی فعال، مدبرانہ اور دوراندیش سفارتی کردار نے خلیجی ممالک، مشرقِ وسطیٰ  اورعالمی سطح پر اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔

عالمی توانائی بحران اور جیو پولیٹیکل کشیدگی کے موجودہ دور میں بھی پاکستان اپنی غیر معمولی معاشی حکمتِ عملی کی بدولت بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مستقل مرکز بن چکا ہے۔ عالمی معاشی طاقتیں اب پاکستان کی اسٹریٹجک اور جغرافیائی اہمیت کا کھل کر اعتراف کر رہی ہیں۔

معاشی اشاریے اور روپے کا استحکام، بلومبرگ کی رپورٹ

بین الاقوامی مالیاتی اعداد و شمار کے سب سے مستند امریکی ادارے ’بلومبرگ‘ نے پاکستان کے معاشی استحکام کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر رپورٹ جاری کر دی

رپورٹ کے مطابق، مشکل علاقائی حالات اور عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان عالمی برادری اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔

کرنسی کا استحکام

پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 280 روپے کی سطح پر مضبوطی سے مستحکم ہے۔

اسٹاک مارکیٹ

کے ایس ای-100 انڈیکس نے زبردست کارکردگی دکھائی ہے اور عالمی بحران کے باوجود سال بھر میں اس میں صرف 1.3 فیصد کی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جو مارکیٹ کے پائیدار ہونے کی علامت ہے۔

معاشی مضبوطی کے 3 بڑے ستون

بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں ان بنیادی عوامل کا احاطہ کیا ہے جن کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو سہارا ملا ہے ان میں نمبر ایک آئی ایم ایف (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ) سے تعاون شامل ہے، عالمی ادارے کے پروگرام پر سختی سے عمل درآمد اور معاشی اصلاحات نے عالمی سرمایہ کاروں کو مثبت سگنل دیا۔

خلیجی سفارت کاری اور سعودی عرب کی مدد

پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کے نتیجے میں برادر ملک سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں موجود اپنے 3 ارب ڈالر کے ذخائر (ڈیپازٹس) برقرار رکھے اور اس کے ساتھ ساتھ 5 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت مہیّا کی۔

چین کا تاریخی تعاون اور ’پانڈا بانڈ‘

 دوست ملک چین نے پاکستان کے پہلے شاندار مالیاتی انسٹرومنٹ ’پانڈا بانڈ‘ کے لیے 257 ملین ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کی، جس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو زبردست تقویت ملی ہے۔

مستقبل کا عالمی لاجسٹکس حب

بلومبرگ اور عالمی ماہرینِ معیشت کے مطابق پاکستان کا جغرافیائی مقام دنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مرکز، گوادر بندرگاہ میں یہ مکمل صلاحیت موجود ہے کہ وہ مستقبل قریب میں پورے خطے (بشمول وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ) کا سب سے بڑا اور اہم ترین اسٹریٹجک لاجسٹکس اور تجارتی مرکز بن کر ابھرے۔

مسلم دنیا میں پاکستان کا بڑھتا ہوا عسکری و سفارتی اثر و رسوخ اور گوادر کی جیو اسٹریٹجک پوزیشن عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی طرف مائل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

اقتصادی بحران سے ’اکنامک ٹرن اراؤنڈ‘ تک کا سفر

گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کو شدید معاشی مشکلات، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور روپے کی قدر میں ریکارڈ گراوٹ کا سامنا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کے خدشات ظاہر کرنا شروع کر دیے تھے۔

ایسے نازک وقت میں پاکستان نے اپنی معاشی ترجیحات کو تبدیل کیا۔ روایتی جیو پولیٹکس (جغرافیائی سیاست) سے نکل کر جیو اکنامکس (جغرافیائی معیشت) کی پالیسی اپنائی گئی۔

مزید پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی میں پاکستان کا نمایاں کردار ، ترک میڈیا نے قابل اعتماد ثالث قرار دیدیا

خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سرمایہ کاری کے نئے معاہدے کیے گئے اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) جیسے اقدامات کے ذریعے بیرونی سرمایہ کاری کے لیے آسانیاں پیدا کی گئیں۔

بلومبرگ کی حالیہ رپورٹ دراصل اسی کٹھن سفر اور اس کے نتیجے میں ملنے والے معاشی استحکام کی بین الاقوامی تصدیق ہے۔

اصلاحات کا تسلسل اور پائیدار ترقی کا چیلنج

بلومبرگ کے اعداد و شمار اور روپے کا 280 پر ٹک جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے معاشی تباہی کا طوفان تو روک لیا ہے، لیکن پائیدار ترقی کا سفر ابھی باقی ہے۔

معاشی و تجارتی تجزیہ

واضح رہے کہ موجودہ معاشی استحکام کو مستقل ترقی میں بدلنے کے لیے پاکستان کو ہوم ورک جاری رکھنا ہوگا۔ اگر آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کی جانے والی اصلاحات، دوست ممالک کی مالی معاونت اور سب سے اہم ’برآمدات پر مبنی معاشی اصلاحات‘ کا تسلسل برقرار رہا، تو پاکستان اگلے چند برسوں میں جنوبی ایشیا اور خلیجی خطے کے درمیان ایک ابھرتی ہوئی معاشی اور تجارتی طاقت بن کر ابھر سکتا ہے۔

چیلنج اب یہ ہے کہ پاکستان بیرونی قرضوں پر انحصار کم کر کے گوادر بندرگاہ اور اپنے صنعتی زونز کے ذریعے مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو کس تیزی سے بڑھاتا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ کا اعتماد بحال ہو چکا ہے، اب گیند پاکستان کے کورٹ میں ہے۔

Related Articles