لاہور کے معروف سرکاری ادارے لیڈی ولینگڈن اسپتال میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے طبی شعبے میں سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں مبینہ طور پر ڈاکٹرز کی غیر پیشہ ورانہ مقابلہ بازی کے باعث مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی گئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپتال کے ایک ہی آپریشن تھیٹر میں بیک وقت ’2‘ سی سیکشن آپریشنز کے دوران ڈاکٹرز کے درمیان یہ غیر ذمہ دارانہ مقابلہ جاری تھا کہ کون پہلے آپریشن مکمل کرتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس عمل کے دوران طبی اصولوں اور حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کیا گیا، جو مریضوں کی جانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔
مزید برآں، سخت پابندی کے باوجود آپریشن تھیٹر کے اندر ویڈیوز بھی بنائی گئیں، جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا اور طبی شعبے کی پیشہ ورانہ ساکھ پر سوالات اٹھائے گئے۔
واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومت پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے ‘4’ ڈاکٹرز، ڈاکٹر طیبہ فاطمہ طور، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر اور ڈاکٹر عائشہ افضل کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ فوری طور پر معطل کر دی ہے۔
اس کے ساتھ ہی محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نے اسپتال انتظامیہ سے تفصیلی وضاحت طلب کر لی ہے۔ جن افسران سے جواب طلب کیا گیا ہے ان میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فرح انعام اور شعبہ امراضِ نسواں کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین شامل ہیں۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے اس واقعے کو طبی اخلاقیات، مریض کے وقار اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے رویے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مریض کی جان اور عزت ہر چیز پر مقدم ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب سیکرٹری صحت عظمت محمود نے خبردار کیا ہے کہ اگر متعلقہ حکام کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ دیا گیا تو مزید سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ آپریشن تھیٹر ایک انتہائی حساس اور محفوظ ماحول ہوتا ہے جہاں معمولی سی غفلت بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسے میں مقابلہ بازی یا غیر سنجیدہ رویہ نہ صرف طبی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ مریضوں کے بنیادی حقوق کے بھی منافی ہے۔
سوشل میڈیا پر تنقید کے ساتھ اس بات کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس واقعے کو مثال بنا کر مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی اور تربیتی اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی اسپتالوں میں اخلاقی ضابطوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں صارفین نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور مریضوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دینے پر زور دیا۔