خیبرپختونخوا میں جاری حالیہ بارشوں نے تباہی مچا دی، صوبائی حکومت کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے تاحال کوئی مؤثر اقدامات سامنے نہیں آ سکے۔
پی ڈی ایم اے کی تازہ رپورٹ کے مطابق مختلف اضلاع میں گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اب تک 30 افراد جاں بحق جبکہ 85 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق افراد میں 20 بچے، 5 خواتین اور 5 مرد شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی بھی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 140 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں سے 25 مکمل طور پر تباہ ہو گئے، مگر متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک مناسب امداد یا بحالی کے اقدامات فراہم نہیں کیے گئے۔
یہ افسوسناک واقعات بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت، کرم، ہنگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر، بٹگرام، شمالی وزیرستان اور ٹانک سمیت کئی اضلاع میں پیش آئے، جہاں عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے اگرچہ ضلعی انتظامیہ کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں اور متاثرہ خاندان اب بھی حکومتی توجہ کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں زلزلے اور بارش کے باعث شیخ یوسف اڈے پر ایک عمارت گر گئی، جس سے آٹھ گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ متاثرہ شہری کے مطابق اس واقعے میں پونے تین کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا، لیکن یہاں بھی حکومتی امداد نہ ہونے کے برابر ہے۔