توانائی کے وسائل پر دباؤ کم کرنے اور نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے گلگت بلتستان میں بازاروں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس پر 6 اپریل 2026 سے عملدرآمد ہوگا۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام بازار، کاروباری مراکز اور دکانیں رات 8 بجے تک کھلی رہیں گی، جبکہ میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ عوام کو ادویات کی دستیابی میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
نجی ٹی وی کے مطابق اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام شادی ہالز اور کھلی جگہوں پر منعقد ہونے والی شادی کی تقریبات رات 10 بجے تک ختم کرنا لازمی ہوگا، اس اقدام کا مقصد توانائی کے استعمال کو محدود کرنا اور غیر ضروری بجلی خرچ کو کم کرنا ہے۔
محکمہ داخلہ نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ ان احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، اس کے ساتھ ساتھ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ نئے اوقات کار کی پابندی کریں تاکہ اجتماعی طور پر توانائی بحران پر قابو پایا جا سکے۔
واضح رہے کہ وفاقی سطح پر بھی اسی نوعیت کے اقدامات زیر غور ہیں، جہاں بازاروں کے اوقات میں مزید کمی اور کفایت شعاری پالیسیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
حالیہ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی، جس میں تجویز دی گئی کہ بازاروں کو معمول سے پہلے بند کیا جائے جبکہ شادی ہالز اور ریستوران کو رات 10 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دی جائے،اگر یہ اقدامات مؤثر انداز میں نافذ کیے گئے تو نہ صرف توانائی کے وسائل پر دباؤ کم ہوگا بلکہ ملک میں توانائی کے بہتر انتظام میں بھی مدد ملے گی۔