امریکا اور ایران کے درمیان بیانات کی جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ متنازع اور دھمکی آمیز بیان پر ایران کی اعلیٰ قیادت نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے سینیئر مشی علی اکبر ولایتی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو عالمی توانائی اور تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم بحری گزرگاہیں، خصوصاًآبنائے ہرمز، عالمی معیشت کے لیے نہایت حساس ہیں۔
ایران کے نائب صدمحمد رضا عارف نے امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دھمکیوں کی سیاست خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہی ہے۔ اسی طرح ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر نے امریکا پر خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنے کا الزام عائد کیا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے بھیاقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز کھولی نہ گئی تو سخت نتائج سامنے آئیں گے، جس پر ایران نے اسے بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا ہے۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے کم کیا جائے گا تاکہ خطے میں امن برقرار رہے۔
مزید پڑھیں: ایران جنگ اور ٹرمپ کی دھمکیاں: سینیٹر برنی سینڈرز نے امریکی صدر کے دماغی توازن پر سوال اٹھا دیا

