مشرقِ وسطٰی میں جاری کشیدگی کے سائے میں جہاں ایک طرف فوجی اتحاد مضبوط ہو رہے ہیں، وہیں دوسری طرف جنگ کو بڑے پیمانے پر پھیلنے سے روکنے کے لیے پسِ پردہ سفارت کاری بھی عروج پر پہنچ گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے باضابطہ طور پر امریکا کی قیادت میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی بین الاقوامی کوششوں میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
یو اے ای کے صدارتی مشیر انور قرقاش کے مطابق امارات اس اتحاد کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے جس کا مقصد عالمی جہاز رانی کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انور قرقاش نے مزید کہا کہ ایران کی موجودہ علاقائی حکمت عملی درحقیقت خلیج میں امریکا اور اسرائیل کے اثر و رسوخ کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے گی۔
دوسری جانب امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ اور دیگر بین الاقوامی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ پر مشتمل ایک مضبوط گروپ امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہے۔
اگرچہ ایران نے تاحال آبنائے ہرمز کھولنے کا امریکی مطالبہ دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے، لیکن تینوں اسلامی ممالک جنگ بندی کے لیے مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس وقت ایک ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر تبادلہ خیال ہو رہا ہے، جو کہ دو مرحلوں پر مشتمل ایک بڑی ڈیل کا حصہ ہو سکتی ہے۔
پہلے مرحلے میں 45 دن کے لیے ہتھیاروں کی خاموشی اور اس دوران مستقل امن کے لیے بات چیت کا آغاز شامل ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے پر ایک جامع معاہدہ طے پانا ہے۔
اگر مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو اس جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ضرور ہیں، لیکن یہ سفارتی کوشش جنگ کو روکنے کا واحد اور آخری موقع سمجھی جا رہی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس نے فی الحال ان رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
واضح رہے آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی بندش نے عالمی معیشت کو 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ کے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ پاکستان، مصر اور ترکیہ کے اس سہ فریقی گروپ کو سعودی عرب کی بھی حمایت حاصل ہے، جو خطے کو ایک بڑی ایٹمی یا روایتی جنگ سے بچانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ یو اے ای کا امریکی اتحاد میں شامل ہونا ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہے تاکہ اسے 45 روزہ ڈیل کی شرائط ماننے پر مجبور کیا جا سکے۔ 6 اپریل 2026 کی یہ تاریخیں مشرقِ وسطٰی کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں کلیدی ثابت ہوں گی۔