مشرقِ وسطٰی میں صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر گئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کے درمیان براہِ راست جنگی دھمکیوں کا تبادلہ جاری ہے۔
امریکی صدر نے پیر کی رات 8 بجے تک (واشنگٹن ٹائم) ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کا حتمی الٹی میٹم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بصورتِ دیگر منگل کا دن ایران کے لیے ’پاور پلانٹ ڈے‘ اور ’برج ڈے‘ ثابت ہوگا۔
ٹرمپ نے سخت زبان استعمال کرتے ہوئے ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا اور دھمکی دی کہ آبنائے ہرمز نہ کھلنے کی صورت میں ایران کے بجلی گھر، سڑکیں اور پل تباہ کر کے ملک کو ’زندہ جہنم‘ بنا دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی، تیل کے بحران سے کن ممالک کو سب سے زیادہ خطرہ ؟ برطانوی جریدے کا اہم انکشاف
امریکی صدر کی اس اشتعال انگیز دھمکی کے جواب میں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سینیئر مشیرعلی اکبر ولایتی نے دوٹوک وارننگ جاری کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا نے کوئی غلطی کی تو مزاحمتی محاذ کی متحدہ کمان ایک ہی وار سے عالمی توانائی اور تجارت کے بہاؤ کو مفلوج کر دے گی۔ ولایتی نے واضح کیا کہ تہران ناصرف آبنائے ہرمز بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں بھی بحری ٹریفک روکنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے احکامات پر عمل کر کے ہر امریکی خاندان کو جہنم میں دھکیل رہے ہیں۔
ایرانی عدلیہ اور نائب صدر محمد رضا عارف نے بھی امریکی صدر کے لب و لہجے کو ‘پاگل پن’ اور ‘بوکھلاہٹ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ پتھر کے زمانے کی سوچ میں پھنسے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان میں قائم ایرانی سفارت خانے نے اتوار کو ایک غیر معمولی بیان میں امریکی صدر کے ’غیر متوازن رویے‘ پر ان کے مواخذے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن نے عالمی ادارے کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ شہری ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی واضح طور پر ’جنگی جرم‘ ہے اور عالمی برادری کو کل کی دیر ہونے سے پہلے آج ہی حرکت میں آنا ہوگا۔
امریکا اور ایران کے درمیان یہ حالیہ تنازع آبنائے ہرمز کی بندش سے شروع ہوا، جو عالمی تیل کی سپلائی کا اہم ترین راستہ ہے۔ صدر ٹرمپ کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد سے ایران پر ’انتہائی دباؤ‘ کی پالیسی دوبارہ نافذ کی گئی ہے، جس کے جواب میں ایران نے تزویراتی آبی گزرگاہوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کیا ہے۔
واضح رہے کہ اگر منگل کو امریکی فضائیہ نے ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنایا، تو یہ تنازع تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کی لپیٹ میں اسرائیل سمیت کئی عرب ممالک بھی آ سکتے ہیں۔ 6 اپریل 2026 کی یہ ڈیڈ لائن پوری دنیا کے لیے سانسیں روک دینے والی ثابت ہو رہی ہے۔

