ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی حکمت عملی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ فضول مشورے دے رہے ہیں، ناکہ بندی سے تیل کی قیمت 140 ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کی تیل کی فروخت روکنے کے اقدامات کے باوجود تاحال صورتحال اس طرح نہیں بگڑی کہ تیل کے ذخائر اپنی مکمل گنجائش تک پہنچ گئے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ نظریہ نہیں بلکہ ذہنیت ہے، غیر حقیقی اور غلط مشورے فیصلوں کا حصہ بن رہے ہیں، امریکی ناکہ بندی سے تیل کے کنوؤں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
باقر قالیباف نے کہا تین دن میں کوئی کنواں نہیں پھٹا ہے، اور اگلے 30 دن بھی تیل کے کنوؤں سے پیداوار جاری رہے گی۔ انھوں نے امریکی پالیسی سازوں کے غیر سنجیدہ اور فضول مشوروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ٹرمپ انتظامیہ کو وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ فضول مشورے دے رہے ہیں۔
قالیباف کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ ناکہ بندی کے نظریے کو آگے بڑھا رہے ہیں، اس ناکہ بندی سے تیل کی قیمتیں 120 ڈالر تک پہنچ رہی ہیں، تیل کی قیمتوں کا اگلا اسٹاپ 140 ڈالر تک جائے گا۔
دریں اثنا، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ باقر قالیباف نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ ایران کو اقتصادی دباؤ اور اندرونی اختلافات کے ذریعے جھکنے پہ مجبور کر دیں۔
انھوں نے کہا دشمن یہ چاہتا ہے کہ محاصرے اور اندرونی میڈیا کے بیانیے کو کمزور کر کے ہمیں تقسیم کر دے، عوام یہ جان لیں کہ دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں واحد ہتھیار اتحاد اور وحدت ہے، جو بھی اختلافات کو ہوا دے گا وہ دشمن کے ایجنڈے پہ چل رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ہمیشہ بیرونی چیلنجز کا مقابلہ اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ کیا ہے اور موجودہ حالات میں بھی یہی راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا، عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ۔
ماہرین نے بحری ناکہ بندی جاری رہنے اور ایران امریکا مذاکرات تعطل کا شکار رہنے کی صورت میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے سے خبردار کردیا۔