امریکہ کا مشرق وسطی میں تعینات طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ کی واپسی کا فیصلہ

امریکہ کا مشرق وسطی میں تعینات طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ کی واپسی کا فیصلہ

امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں تعینات اپنے سب سے بڑے اور جدید طیارہ بردار بحری جہاز کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال اور طاقت کے توازن پر نئے سوالات اٹھنے لگے

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ گزشتہ دس ماہ سے مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں تعینات تھا تاہم اب امریکی حکام نے اسے واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق اس بحری بیڑے کی واپسی کے بعد خطے میں امریکا کی جنگی صلاحیت اور فوری ردعمل کی طاقت میں کمی واقع ہو سکتی ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ کی سمندری حدود میں داخل ہو گیا

رپورٹ کے مطابق یہ بحری بیڑا اپنی جدید ٹیکنالوجی، فضائی دفاعی نظام اور طیاروں کی بڑی تعداد کے باعث امریکا کی اہم ترین جنگی صلاحیت سمجھا جاتا ہے۔اب اس فیصلے کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا امریکا خطے میں اپنی عسکری موجودگی کم کر رہا ہے یا یہ ایک وقتی حکمت عملی ہے۔

یاد رہے یہ تعیناتی اس وقت کی گئی تھی جب مشرق وسطیٰ میں مختلف محاذوں پر کشیدگی بڑھ رہی تھی جن میں ایران اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ سے جڑے تنازعات بھی شامل تھے۔ اسی دوران امریکا نے اپنی بحری موجودگی کو مضبوط کرنے کے لیے جدید ترین جنگی صلاحیتوں کے حامل اس بحری جہاز کو علاقے میں تعینات کیا تھا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔

editor

Related Articles