روس کی جانب سے یوکرین جنگ میں اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں روس نے یومِ فتح کے موقع پر یوکرین کو عارضی جنگ بندی کی پیشکش کر دی۔
روسی صدر نے 9 مئی کو منائے جانے والے یومِ فتح کے موقع پر یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری جنگ عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور کسی بھی ممکنہ امن اقدام کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
روسی صدر نے ٹرمپ سے گفتگو کے دوران تجویز پیش کی جسے امریکی قیادت کی جانب سے مثبت انداز میں دیکھا گیا ہے اور اسے مشترکہ تاریخی ورثے کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ تاہم یوکرین کی جانب سے اب تک اس پیشکش پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا جس کے باعث یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ جنگ بندی عملی شکل اختیار کر سکے گی یا نہیں۔
اگر یہ جنگ بندی ممکن ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف انسانی بنیادوں پر اہم پیش رفت ہوگی بلکہ مستقبل میں مستقل امن مذاکرات کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے، تاہم اس کا دارومدار یوکرین کے ردعمل پر ہے جس کا پوری دنیا کو انتظار ہے۔