امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے بات چیت کے لیے ایک سرگرم فریق موجود ہے، تاہم اگر ایران نے امریکی مؤقف تسلیم نہ کیا تو اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا امریکہ کی بڑی ترجیح ہے اور اگر بدھ تک یہ راستہ نہ کھولا گیا تو ایران کے پاور پلانٹس پر حملے کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کل رات آٹھ بجے کے بعد پل اور پاور پلانٹس کچھ بھی باقی نہیں رہے گا ۔
انہوں نے کہا کہ اگر جنگ بندی ہو جاتی ہے تو ایرانی عوام کو دوبارہ کھڑا ہونا چاہیے اور اپنے ملک کی تعمیر نو پر توجہ دینی چاہیے۔پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے گزشتہ روز ایرانیوں کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے تھے، جس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ جی ہاں، میں نے ایسا کہا تھا اور مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔
اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے ان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے 3 سے 5 کروڑ لوگوں کی جان بچائی۔امریکی صدر کے اس بیان سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کو ایک ہی رات میں برباد کر سکتا ہے اور وہ رات کل بھی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے امریکی تجاویز نہایت اہم ہیں اور مذاکرات میں انہی تجاویز کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے ایک امریکی پائلٹ کی بازیابی کے حوالے سے بتایا کہ اس اہم آپریشن میں 200 فوجیوں نے حصہ لیا اور انہوں نے خود امریکی فوج کو اس کارروائی کا حکم دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس ایسی فوجی طاقت اور اسلحہ موجود ہے جو کسی اور ملک کے پاس نہیں، اور اسی صلاحیت کی بنیاد پر امریکہ نے ایران میں اپنے اہداف حاصل کیے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایرانی سرزمین سے اپنے پائلٹ کو کامیابی سے ریسکیو کیا جو ایک نہایت اہم اور حساس آپریشن تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پائلٹ کی تلاش کے لیے امریکی طیارے ایران کے اندر تک گئے اور دن کی روشنی میں اسے بحفاظت نکالا گیا، جبکہ اس کارروائی کے دوران کوئی بھی امریکی فوجی زخمی نہیں ہوا۔
صدر ٹرمپ نے اس آپریشن کو تاریخ کا ایک اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اپنی عسکری صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری صورتحال میں امریکہ اپنی برتری برقرار رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو ایک رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے اور یہ رات کل بھی ہوسکتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں امریکی شرائط کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔