وزیراعظم، فیلڈ مارشل خطے میں امن کیلئے کوشاں ہیں،اسحاق ڈار

وزیراعظم، فیلڈ مارشل خطے میں امن کیلئے کوشاں ہیں،اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سینیٹ میں خطے کی موجودہ صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم، فیلڈ مارشل اور دفترِ خارجہ خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایران پر حملے کے وقت وہ مدینہ منورہ میں موجود تھے اور وہیں سے فوری طور پر پاکستان کی جانب سے اس حملے کی مذمت کرنے کی ہدایت دی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پہلا اسلامی ملک تھا جس نے ایران پر حملے کی مذمت کی، انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے کچھ ہی دیر بعد ایران کے وزیر خارجہ عراقچی سے رابطہ کیا گیا، جبکہ ایران پر حملے کے تین سے چار گھنٹوں کے اندر قریبی ممالک پر بھی حملے شروع ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس نازک صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب، مصر، ترکی اور پاکستان کے درمیان اہم مشاورت ہوئی، جس میں دونوں فریقین نے اسلام آباد میں اجلاس کے انعقاد پر رضامندی ظاہر کی، انہوں نے بتایا کہ یہ اجلاس پہلے استنبول میں ہونا تھا تاہم انہوں نے اسے اسلام آباد منتقل کروایا۔

یہ بھی پڑھیں :اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ،خطے میں امن کیلئے فوری اقدامات پر اتفاق

نائب وزیراعظم کے مطابق خطے کی صورتحال پر چینی وزیراعظم نے 31 مارچ کو انہیں چین مدعو کیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان پانچ نکات پر اتفاق کیا گیا، انہوں نے کہا کہ درجنوں ممالک نے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کا اظہار بھی کیا۔

اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی انہیں فون کر کے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پندرہ نکات پر مشتمل ایک فہرست فراہم کی جسے ایران تک پہنچایا گیا، جبکہ ایران کی جانب سے پانچ نکات پر مشتمل جواب دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز انتہائی خطرناک پیش رفت سامنے آئی جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جس کے جواب میں ایران نے سعودی عرب کے علاقے جبیل پر حملہ کیا، انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ رات سے پہلے وہ اس معاملے پر کافی پرامید تھے تاہم اب صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس معاملے کی مزید تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے، تاہم یہ واضح کیا کہ پاکستان کی قیادت خطے میں امن و استحکام کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے اور سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *