عالمی سطح پر پاکستان کی بڑی سفارتی پیش رفت کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ‘دو ہفتوں کے امن پلان’ کو قبول کرتے ہوئے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن میں 14 روز کی توسیع کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے کی گئی مخلصانہ کوششوں اور خطے میں امن کی ضرورت کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ وہ اپنی شرائط پر قائم ہیں، تاہم وہ پاکستان کی اس تجویز کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان دو ہفتوں کے دوران ایران کی جانب سے مثبت اقدامات، خصوصاً ‘آبنائے ہرمز’ کو کھولنے کے حوالے سے عملی پیش رفت سامنے آئی، تو صورتحال مزید بہتر ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انسانیت اور عالمی امن کی فتح قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے اور صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے معتدل اور مخلصانہ سفارتی کردار پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔
اس اعلان کے فوراً بعد عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان مزید بڑھ گیا ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور برادر اسلامی ممالک نے بھی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے اور پاکستان کی کامیاب ثالثی کو سراہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دو ہفتے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہوں گے، جہاں اب تمام تر نظریں تہران کی جانب سے ممکنہ ‘خیر سگالی’ کے اقدامات پر لگی ہوئی ہیں۔