بجلی کی لوڈ شیڈنگ کیوں ہو رہی ہے؟کیا اس میں مزید اضافہ ہو گا؟

بجلی کی لوڈ شیڈنگ کیوں ہو رہی ہے؟کیا اس میں مزید اضافہ ہو گا؟

اگرچہ عام طور پر اپریل کے مہینے میں ملک میں بجلی کی طلب نسبتاً کم ہوتی ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں مشکلات اور لوڈشیڈنگ ہورہی جس سے شہری اور دیہی دونوں علاقوں کے صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

حکام کے مطابق ملک میں اس وقت بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان واضح فرق موجود ہے، پاور ڈویژن کے مطابق موجودہ طلب تقریباً 18000 میگاواٹ ہے جبکہ پیداوار 13500 میگاواٹ کے قریب ہے، جس کے باعث تقریباً 4500 میگاواٹ کا شارٹ فال پیدا ہو رہا ہے۔

حکومتی موقف کے مطابق یہ لوڈشیڈنگ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے جسے “پیک ریلیف اسٹریٹجی” قرار دیا جا رہا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت لوڈ مینجمنٹ نہ کی جاتی تو بجلی کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا تھا، خاص طور پر شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک کے اوقات میں طلب بڑھنے کے باعث صورتحال زیادہ دباؤ کا شکار رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کون سے علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی؟

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت ہائیڈرو پاور کی پیداوار بھی موسمی حالات کے باعث کم ہے، جبکہ درآمدی ایندھن پر انحصار رکھنے والے پاور پلانٹس بھی مکمل صلاحیت سے کام نہیں کر پا رہے۔

موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا مسئلہ درآمدی توانائی پر انحصار ہے، بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے اثرات اور توانائی سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث درآمدی ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس سے کئی پاور پلانٹس کی پیداوار کم ہو گئی ہے۔

ملک میں تقریباً 12 سے 13 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جبکہ ضرورت 17 سے 18 ہزار میگاواٹ کے درمیان ہے، جس کے باعث شارٹ فال برقرار ہے اگر صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں لوڈشیڈنگ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

گرمیوں کے آغاز اور ایئرکنڈیشنرز کے بڑھتے استعمال کے ساتھ بجلی کی طلب میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے توانائی کا بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *