وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی نے اعلان کیا ہے کہ سفاری ٹرین میں مسافروں کے لیے بڑی سطح پر بہتری لاتے ہوئے نئی سہولیات متعارف کروا دی گئی ہیں جن میں اے سی کوچز، نئی اور آرام دہ نشستیں اور فیملیز کے لیے بہتر اور خوشگوار ماحول شامل ہے۔
راولپنڈی اسٹیشن پر سفاری ٹرین کے اپ گریڈڈ ریک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس ٹرین کو باقاعدہ طور پر ایک تفریحی سیاحتی ماڈل میں تبدیل کیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو سفر کے ساتھ ساتھ ایک بہتر تجربہ بھی فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اب مختلف اسٹیشنز پر مختصر قیام رکھا جائے گا جبکہ بعض مقامات جیسے اٹک خورد پر طویل قیام اور مسافروں کے لیے لنچ کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیر ریلوے نے کہا ہے کہ سفاری ٹرین میں کی جانے والی بہتری کے بعد اس سروس میں سفر کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عوامی اعتماد میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے افسران کو فیلڈ میں زیادہ متحرک کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات جاری ہیں، جبکہ ریلوے کے مزدور مشکل حالات میں کام کر کے نظام کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
حنیف عباسی نے اعتراف کیا کہ کراچی تا روہڑی ٹریک پر خستہ حالات کے باوجود ٹرین آپریشن جاری رکھا گیا، تاہم ریلوے کے مکینیکل نظام، بریک سسٹم اور لوکوموٹیوز کی بہتری کے لیے جامع اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق طویل عرصے سے نظرانداز شدہ مینٹیننس مسائل کو حل کرنے کے لیے نیا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریلوے اپ گریڈیشن پروگرام دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کا آغاز متوقع ہے۔ تقریباً دو ارب ڈالر کے ریلوے انفراسٹرکچر منصوبے پر پیشرفت جاری ہے، جبکہ لاہور تا کراچی سفر میں پانچ گھنٹے کمی کے منصوبے پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ لاہور ڈویژن میں ٹریک اپ گریڈیشن منصوبہ تقریباً 250 ارب روپے کی لاگت سے جاری ہے جبکہ نو مختلف روٹس پر ڈی ایم یو ٹرینیں چلانے کا منصوبہ پنجاب حکومت کے تعاون سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ شراکت داری اور جوائنٹ وینچر ماڈل کے تحت ریلوے منصوبے آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔