پاکستان کے سب سے بڑے زرعی صوبے پنجاب میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات نے غذائی تحفظ کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جہاں ماہرینِ زراعت نے رواں سیزن کے دوران گندم کی پیداوار میں شدید کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
حالیہ برسوں میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے، بے وقت بارشوں اور طویل خشک سالی نے فصلوں کے قدرتی عمل کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں کمی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
پنجاب، جو ملک کی گندم کی ضرورت کا تقریباً 75 فیصد پیدا کرتا ہے، اس وقت “ہیٹ ویو” اور موسمیاتی عدم توازن کی زد میں ہے۔ ماہرین کے مطابق گندم کی فصل کو پکنے کے آخری مراحل میں معتدل درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن مارچ اور اپریل میں اچانک بڑھتی ہوئی گرمی دانے کو سکڑنے پر مجبور کر دیتی ہے، جس سے نہ صرف وزن کم ہوتا ہے بلکہ کوالٹی بھی متاثر ہوتی ہے۔
اسی طرح کھادوں کی قیمتوں میں اضافے اور پانی کی قلت نے کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے کاشتکار متبادل فصلوں کی طرف جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
محکمہ زراعت اور ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق نئی بیجوں کی اقسام متعارف نہ کرائی گئیں اور پانی کے ذخائر کا بہتر انتظام نہ کیا گیا تو مستقبل میں گندم کی درآمد پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) کی حالیہ رپورٹ کے تناظر میں، یہ زرعی نقصان ملکی جی ڈی پی کو پہنچنے والے اس 6 فیصد نقصان کا حصہ بن سکتا ہے جس کا خدشہ 2050 تک ظاہر کیا گیا ہے۔
حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے اور “کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر” کو فروغ دینے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں ڈومیسائل نظام میں بڑی اصلاحات، مکمل ڈیجیٹل سسٹم اور آن لائن فیس ادائیگی کا فیصلہ

