امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بے نتیجہ ختم ہونے کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ان پانچ ‘ریڈ لائنز’ یا سرخ لکیروں کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر سمجھوتہ نہ ہونے کی وجہ سے 21 گھنٹے طویل جاری رہنے والی یہ نشست کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکی۔
امریکی دستاویز کے مطابق واشنگٹن نے ایران کے سامنے جو سخت شرائط رکھیں ان میں یورینیم کی ہر قسم کی افزودگی کا فوری خاتمہ اور تمام اہم جوہری تنصیبات کو ختم کرنا شامل تھا۔ اس کے علاوہ امریکہ کا مطالبہ تھا کہ ایران انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ واپس کرے اور ایک ایسے وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کو قبول کرے جس میں امریکہ کے اتحادی ممالک بھی شامل ہوں۔
مزید برآں، دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ کا مکمل خاتمہ اور حماس جیسی تنظیموں کے خلاف قانونی کارروائی کی راہ میں رکاوٹ نہ بننا بھی امریکی شرائط کا حصہ تھا۔
مذاکرات کی اس ناکامی کے بعد خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے تاکہ اس اہم بحری گزرگاہ پر ایران کے کنٹرول کو ختم کیا جا سکے۔
اگرچہ امریکہ نے تاحال باقاعدہ جنگ شروع کرنے کا اعلان نہیں کیا، لیکن جے ڈی وینس کی اسلام آباد سے واپسی کے بعد 8 اپریل سے جاری دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی اب انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس واپس امریکہ روانہ ہوگئے

