بھارت کے دارالحکومت دہلی میں بھارتی فوج کے وقار کو اس وقت شدید دھچکا پہنچا جب ’آپریشن سندور‘ کی حالیہ ناکامیوں سے نالاں عوام نے ایک حاضر سروس بریگیڈیئر اور ان کے بیٹے کو سرِ بازار پھینٹی لگا دی اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کو جنوب مغربی دہلی کے علاقے وسنت انکلیو میں پیش آیا جب بریگیڈیئر پرمیندر سنگھ اروڑہ اور ان کے بیٹے نے کھلے عام شراب پینے پر چند افراد کو ٹوکا، جس پر ان افراد نے بریگیڈیئر کو آپریشن سندور میں پاکستان کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا جانے کا طعنہ دیا اور کہا کہ آپ اتنے ہی مہان ہیں تو پاکستان سے شکست کیوں کھائی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئراور ان کے بیٹے کی جانب سے غصہ کھا جانے کے باعث مذکورہ شخص نے اپنے 8 سے 10 دیگر ساتھیوں کو بلا لیا جنہوں نے باپ بیٹے پر دھاوا بول دیا۔ اس دوران وہاں موجود ہجوم نے ’آپریشن سندور‘ میں بھارتی فوج کی ناکامیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے افسر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
تشدد کے نتیجے میں بریگیڈیئر کے بیٹے کو شدید چوٹیں آئیں جبکہ مداخلت کرنے پر حاضر سروس افسر کو بھی دھکے دیے گئے اور ان کی تذلیل کی گئی۔ انتہائی حیرت انگیز طور پر، پولیس ہیلپ لائن 112 پر کال کرنے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والی پی سی آر وین اور اہلکاروں نے تشدد روکنے کے لیے کوئی مداخلت نہیں کی اور خاموش تماشائی بنے رہے۔
آرمی بریگیڈیئر کی تھانہ پہنچنے پر اس وقت مزید تذلیل کی گئی جب واقعے کے بعد متاثرہ خاندان وسنت وہار پولیس اسٹیشن پہنچا تو وہاں بھی پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے اور طبی امداد دینے سے صاف انکار کر دیا، جس کے بعد زخمیوں کو ملٹری اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
انڈین آرمی نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملٹری پولیس کی ٹیم کو افسر کی مدد کے لیے تعینات کر دیا ہے اور دہلی پولیس سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ 13 اپریل کو منظر عام پر آنے والی اس رپورٹ نے بھارتی فوجی اور پولیس حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
‘آپریشن سندور’ بھارتی فوج کا وہ خفیہ منصوبہ تھا جس میں اسے حالیہ دنوں میں عبرت ناک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس نے بھارتی عوام اور فوج کے درمیان اعتماد کی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
دہلی کا یہ حالیہ واقعہ محض ایک لڑائی نہیں بلکہ بھارتی سوسائٹی میں فوج کے گرتے ہوئے گراف اور پولیس و فوج کے درمیان جاری سرد جنگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پولیس کا ایک حاضر سروس بریگیڈیئر کی شکایت درج کرنے سے انکار کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کے انتظامی ڈھانچے میں کتنی بڑی دراڑیں پڑ چکی ہیں۔