امریکا، ایران مذاکرات کا دوسرا دور چند دنوں میں متوقع ہے، وال اسٹریٹ جرنل کا بڑا دعویٰ

امریکا، ایران مذاکرات کا دوسرا دور چند دنوں میں متوقع ہے، وال اسٹریٹ جرنل کا بڑا دعویٰ

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان سخت لفظی جنگ کے باوجود سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہوئے اور آئندہ چند روز میں مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہونے کا قوی امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق خطے کے اہم ممالک دونوں حریفوں کو دوبارہ مذاکراتی میز پر لانے کے لیے بھرپور سفارتی دباؤ استعمال کر رہے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اگرچہ عوامی سطح پر دونوں جانب سے انتہائی سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں، لیکن پسِ پردہ جنگ بندی میں توسیع اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے رابطے مسلسل جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی فورم پر پاکستان کی اہمیت کا اعتراف: ہارورڈ یونیورسٹی پاکستان کو کلیدی ملک ماننے پر مجبور

علاقائی طاقتیں اس وقت امریکا کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ اسلام آباد میں شروع ہونے والے عمل کو کسی منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

تاہم صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب ایک اور رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ امریکی انتظامیہ مذاکرات کی ممکنہ ناکامی کی صورت میں ایران پر ’محدود فوجی حملوں‘ کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

ان حملوں کا مقصد ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو نشانہ بنانا بتایا گیا ہے۔ ان متضاد اطلاعات نے عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، جہاں ایک طرف ’امن‘ کی امید ہے تو دوسری طرف ’ٹکراؤ‘ کا خدشہ برقرار ہے۔

یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ امریکا اس وقت ’دو رخی پالیسی‘ پر عمل پیرا ہے، ایک طرف مذاکرات کا دباؤ اور دوسری طرف فوجی کارروائی کی دھمکی علاقائی ممالک، خاص طور پر پاکستان اور خلیجی ریاستیں، جانتے ہیں کہ کسی بھی قسم کا فوجی ٹکراؤ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے تباہ کن ہوگا۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ’خفیہ سفارت کاری‘ اب بھی فعال ہے، جو اکثر بڑے بریک تھرو کا سبب بنتی ہے۔

Related Articles