پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف

پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف

چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی بروقت اور مدبرانہ کوششوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی آئی اور جنگ بندی ممکن ہوئی ہے۔

منگل کو پاکستان ایئر فورس اکیڈمی (پی اے ایف ) اصغر خان رسالپور میں 152 جی ڈی پی اور الائیڈ کورسز کی گریجویشن پریڈ کی پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی جنگی صلاحیتوں اور سول و عسکری قیادت کی بھرپور تعریف کی۔ تقریب میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں:پی این ایس خیبر کی شمولیت، سمندری حدود ناقابلِ تسخیر ہو چکی، ایڈمرل نوید اشرف کا بھارت کو دوٹوک پیغام

ایڈمرل نوید اشرف نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان ایئر فورس نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر کے دشمن کو واضح پیغام دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ نے روایتی محاذ کے ساتھ ساتھ سائبر اور الیکٹرانک وار فیئر میں بھی اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ نیول چیف نے معرکہ حق کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کی ہر جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اسے پسپائی پر مجبور کر کے بحری سرحدوں کا کامیاب دفاع کیا۔

عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ ایران امریکا تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی، تاہم پاکستان نے اس بحران کے حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ افواجِ پاکستان قوم کی حمایت سے دہشتگردی کا کامیابی سے مقابلہ کر رہی ہیں اور کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ انہوں نے فارغ التحصیل کیڈٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر ملک و قوم کے دفاع کا مقدس فریضہ جانفشانی سے سرانجام دیں گے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کی پہلی چینی ساختہ ’ہانگور کلاس‘ آبدوز2026 میں بحری بیڑے میں شامل جائے گی، ایڈمرل نوید اشرف

رسالپور اکیڈمی میں ہونے والی یہ تقریب ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب پاکستان نے عالمی سطح پر ‘ملٹری ڈپلومیسی’ کے ذریعے اپنا لوہا منوایا ہے۔

گزشتہ سال مئی میں پاک فضائیہ کی کامیاب کارروائیوں نے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ایڈمرل نوید اشرف کا ‘معرکہ حق’ اور بھارتی بحریہ کی جارحیت کا تذکرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی سمندری اور فضائی حدود کی نگرانی کا نظام انتہائی مربوط اور ناقابلِ تسخیر ہے۔

ایران امریکا حالیہ تنازع میں پاکستان کی ثالثی نے اسے عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر مستحکم کیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *