لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیل کے حملے جاری ہیں ، جس کے نتیجے میں طبی عملے کے4 ارکان سمیت 21 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے جاری حملوں میں شہدا کی تعداد دوہزار 167 ہوگئی جبکہ سات ہزار 61 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
وزارت کا کہنا ہے کہ جنگ میں 91 پیرامیڈیکس ارکان شہید اور 208 دیگر زخمی ہوئے، ایمبولینسوں اور طبی سہولیات پر 120 سے زیادہ اسرائیلی حملے ریکارڈ کیے گئے۔
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی، جس کے نتیجے میں 10 لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہو چکے ہیں ، ان جھڑپوں کے دوران اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے کئی سرحدی علاقوں میں پیش قدمی بھی کی ہے، جبکہ تل ابیب نے وہاں بفر زون قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے جوابی کارروائیاں کی گئیں، لبنان پر اسرائیلی جارحیت کیخلاف آوازیں اٹھنے لگیں، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا سمیت 10 ممالک نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، مشترکہ بیان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
لبنان میں بگڑتی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن دستوں پر حملے ناقابل قبول ہیں، شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، حملوں میں ملوث ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہئے۔
دوسری جانب اسرائیلی چیف آف سٹاف ایال زامیر نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور لبنان میں جنگ جاری رکھنے کے منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں اہداف تیار ہیں۔ جنوبی لبنان کے مغربی سیکٹر میں 162 ویں ڈویژن کی افواج کا معائنہ کرنے کے دوران انہوں نے کہا کہ کل ہم نے لبنان اور ایران دونوں مقامات پر جنگ جاری رکھنے کے منصوبوں کی توثیق کی ہے۔
دریں اثنا امریکہ نے منگل کو کئی دہائیوں میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان پہلے براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کی ہے، دوسری طرف اسرائیل نے ان مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر بحث کے امکان کو مسترد کر دیا ، اس سے قبل تل ابیب اور واشنگٹن نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اطلاق لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیل کے حملوں پر نہیں ہوتا۔