بجلی کے بعد انٹرنیٹ کی بھی لوڈشیڈنگ ؟ صارفین کیلئے پریشان کن خبر

بجلی کے بعد انٹرنیٹ کی بھی لوڈشیڈنگ ؟ صارفین کیلئے پریشان کن خبر

ملک میں بجلی کی طویل اور مسلسل  لوڈ شیڈنگ نے جہاں عام آدمی کی زندگی کو متاثر کیا ہے، وہیں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروسز بھی شدید دباؤ کی زد میں ہیں ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں کے ترجمان نے صارفین کو سروسز میں ممکنہ تعطل کے حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کرتے ہوئے صورتحال کی سنگینی واضح کی ہے۔

ترجمان کے مطابق بجلی کی غیر یقینی فراہمی ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے ، شہری علاقوں میں زیادہ تر موبائل ٹاورز بیک اپ بیٹری سسٹمز پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مکمل چارج ہونے کے لیے کم از کم تین گھنٹے مسلسل بجلی درکار ہوتی ہے تاہم، وقفے وقفے سے ہونے والی لوڈشیڈنگ کے باعث یہ عمل مکمل نہیں ہو پاتا، جس سے بیٹریوں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بجلی صارفین کے لیے بری خبر ، قیمتوں میں اضافے کا امکان

مزید بتایا گیا کہ بیٹریاں مکمل چارج نہ ہونے کی صورت میں اپنی بیک اپ صلاحیت کھو دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز متاثر ہونے لگتی ہیں۔

عام طور پر موبائل ٹاورز پر نصب بیٹریاں صرف 2 سے 6 گھنٹے تک بیک اپ فراہم کر سکتی ہیں، لیکن طویل لوڈشیڈنگ کے باعث یہ نظام جلد ناکام ہو جاتا ہے اور سروسز میں خلل پیدا ہوتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بجلی کی عدم دستیابی کی صورت میں جنریٹرز کا استعمال ایک متبادل حل ہے، تاہم پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث ہر ٹاور پر جنریٹر چلانا ممکن نہیں رہا۔

ٹیلی کام ذرائع کے مطابق بجلی کی مسلسل ’’آنکھ مچولی‘‘ اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے کمپنیوں کے لیے سروس کے معیار کو عالمی سطح پر برقرار رکھنا ایک مشکل ہدف بنا دیا ہے، اگر بجلی کی فراہمی میں استحکام نہ آیا تو صارفین کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *