پاکستان میں اس وقت واٹس ایپ ہیکنگ ایک خطرناک مسئلہ بنتا جا رہا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر عام صارفین، خواتین، بزرگوں اور خاص طور پر کاروباری افراد کو ان کے اکاؤنٹس سے محروم کیا جا رہا ہے۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ واٹس ایپ ہیک ہونا کسی جادو یا پیچیدہ عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ اکثر ہماری اپنی ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
عام طور پر ہیکرز کسی جاننے والے نمبر سے میسج کرتے ہیں کیونکہ ان کا اکاؤنٹ پہلے ہی ہیک ہو چکا ہوتا ہے اس لیے وہ صارفین سے واٹس ایپ کا ویریفیکیشن کوڈ مانگتے ہیں یا کسی گروپ میں شامل کرنے کا بہانہ بناتے ہیں۔
یاد رکھیں کہ یہ کوڈ آپ کی ڈیجیٹل چابی ہے اور واٹس ایپ یا کوئی بھی معتبر ادارہ کبھی بھی یہ کوڈ طلب نہیں کرتا، یہ کوڈ کسی کو دے دیا جائے تو سمجھیں کہ آپ نے اپنے اکاؤنٹ کی رسائی خود دوسرے کے حوالے کر دی۔
واٹس ایپ ہیک ہونے پر کیا کریں ؟
اگر کسی صارف کا واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو فوری طور پر ایپ کو ڈیلیٹ کر کے دوبارہ انسٹال کرنا چاہیے اور اپنا نمبر دوبارہ درج کرنا چاہیے، اس عمل سے نیا کوڈ آتا ہے اور پرانا سیشن خود بخود ختم ہو جاتا ہے کیونکہ ایک وقت میں واٹس ایپ صرف ایک ہی ڈیوائس پر چل سکتا ہے۔
اگر ہیکر نے ٹو سٹیپ ویریفیکیشن فعال کر دی ہو اور لاگ ان مشکل ہو رہا ہو تو واٹس ایپ کچھ دن بعد بغیر پن کے لاگ ان کی اجازت دیتا ہے، اس دوران سم کارڈ فعال رکھنا ضروری ہے اور بار بار لاگ ان کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، ساتھ ہی واٹس ایپ سپورٹ کو رپورٹ کرنا بھی اہم ہے۔
اکاؤنٹ کو محفوظ کیسے بنائیں ؟
اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹو سٹیپ ویریفیکیشن ضرور آن کریں اور ایک مضبوط پن سیٹ کریں، انٹرنیٹ پر آنے والے مشکوک لنکس، انعامات یا غیر ضروری پیشکشوں پر کلک نہ کریں کیونکہ یہ بھی ہیکنگ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
وقتاً فوقتاً واٹس ایپ کی ڈیوائس سیٹنگز چیک کریں اور غیر معروف ڈیوائس کو فوراً لاگ آؤٹ کریں، جدید دور میں سم سوپنگ اور وائس میل ہیکنگ جیسے طریقے بھی استعمال ہو رہے ہیں، اس لیے فون کو بائیومیٹرک یا فنگر پرنٹ لاک سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
تھوڑی سی احتیاط نہ صرف آپ کا ڈیٹا محفوظ رکھ سکتی ہے بلکہ آپ کے دوستوں اور خاندان کو بھی بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے، ڈیجیٹل دنیا میں حفاظت مکمل طور پر آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔