ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ نرمی کے آثار سامنے آنے لگے ، سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں جنگ بندی میں توسیع اور ایک ابتدائی معاہدہ طے پانے کا امکان موجود ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری اختلافات خطے کے امن اور عالمی سیاست پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق اگرچہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم دونوں فریقین کے درمیان اہم اختلافات اب بھی برقرار ہیں جن میں جوہری پروگرام سے متعلق معاملات اور سنجیدہ سفارتی بات چیت کی ضرورت شامل ہے۔ سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ مجوزہ ابتدائی ڈیل مکمل معاہدہ نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک ایسے فریم ورک کی بنیاد رکھ سکتی ہے جس کے تحت پابندیوں کے خاتمے اور جنگی نقصانات کے ازالے جیسے معاملات پر باضابطہ مذاکرات آگے بڑھ سکیں گے۔
یہ بھی پڑھی :کتنے جہاز گزرے، کتنے رکے؟امریکی ناکہ بندی کتنی موثر؟ آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال سامنے آگئی
ایران کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کیا جاتا ہے تو وہ عالمی برادری کو اپنے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کے حوالے سے یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہے۔ تاہم حساس سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی شرائط پر عملدرآمد سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔
یاد رہے ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری راستے کو تجارتی جہازوں کے لیے عارضی طور پر کھولنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس حوالے سے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جنگ بندی کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کو آمد و رفت کی اجازت ہوگی تاہم فوجی نوعیت کے جہازوں پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔

