وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ معاشی تناظر میں ایسا ہرگز ممکن نہیں کہ عام عوام تو قربانی دیں لیکن ملک کی اشرافیہ اور مقتدر طبقہ مراعات حاصل کرتا رہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ معاشی بحران کے دوران قربانی کا آغاز وفاقی کابینہ اور سرکاری اداروں سے کیا گیا ہے تاکہ کفایت شعاری کی ایک حقیقی مثال قائم کی جا سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس اہم بیٹھک میں جاری بجٹ اجلاس، ملکی معیشت، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور عوامی فلاح و بہبود کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے بجٹ اجلاس میں خواتین ارکان کی بھرپور اور فعال شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
خواتین کو بااختیار بنانا اولین ترجیح اور تاریخی ریلیف پیکیج کا تذکرہ
وزیراعظم نے وفد کو بتایا کہ حکومت نے موجودہ بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی مخلصانہ کوشش کی ہے۔ بجٹ میں خواتین کو مالی طور پر خودمختار بنانے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، کیونکہ پاکستانی خواتین کو بااختیار بنانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
معاشی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے شہباز شریف نے بتایا کہ حکومت نے 128 ارب روپے کی خطیر رقم سبسڈی کی مد میں مختص کی ہے تاکہ وسیع پیمانے پر کفایت شعاری مہم کے ذریعے عوامی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے معاشی استحکام کے لیے وفاق اور صوبوں کے مابین مثالی تعاون پر تمام صوبائی حکومتوں اور بالخصوص پاکستانی عوام کے صبر اور تعاون کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
خطے میں امن کے بادل چھٹ گئے، ’ٹیم پاکستان‘ کی کوششوں کا اعتراف
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایک بڑی خوشخبری سنائی کہ اللہ کے فضل و کرم سے خطے میں کشیدگی کے بادل اب چھٹ چکے ہیں اور امن کے قیام کی کوششیں کامیاب رہی ہیں۔ انہوں نے اس عمل میں بھرپور تعاون فراہم کرنے پر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے سیکیورٹی اور سفارتی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی کے آغاز سے ہی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور پوری حکومتی ٹیم نے خلوصِ نیت کے ساتھ امن کے لیے دن رات کام کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ خطے اور دنیا میں دیرپا امن کے قیام سے ہی پاکستان سمیت دیگر ممالک کی معاشی ترقی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ حالات معمول پر آتے ہی اس امن کے تمام تر مثبت معاشی اثرات براہِ راست عوام تک منتقل کیے جائیں گے۔
مستقبل کی معاشی ترجیحات اور شرکا کی تفصیلات
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود ایک عوام دوست بجٹ پیش کیا گیا ہے جس سے ملک میں صنعت کا پہیہ تیز ہوگا اور برآمدات (ایکسپورٹس) پر مبنی معیشت کو فروغ ملے گا۔
آئندہ مالی سال میں حکومت کی تمام تر توجہ 4 بنیادی شعبوں پر مرکوز رہے گی، ان شعبوں میں آبی ذخائر (ڈیمز اور پانی کی سیکیورٹی)، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)، زراعت (ایگریکلچر)، معدنیات (منرلز اور قدرتی وسائل) شامل ہیں۔
ملاقات کے دوران خواتین ارکانِ پارلیمنٹ نے عالمی اور علاقائی سطح پر امن کے قیام اور بجٹ میں خواتین کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے پر وزیراعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، رانا مبشر اقبال، وزرائے مملکت شزرا منصب علی خان کھرل، وجیہہ قمر اور معاون خصوصی طلحہ برکی بھی موجود تھے۔
پاکستان کا معاشی بحران اور اشرافیہ کی مراعات کا تنازع
پاکستان طویل عرصے سے ایک ایسے شدید معاشی ڈھانچہ جاتی بحران کا شکار ہے جہاں بین الاقوامی اداروں (جیسے آئی ایم ایف) کی شرائط کے باعث عام آدمی پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھتا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف سرکاری افسر شاہی، ججز، جرنیلوں اور سیاست دانوں پر مشتمل ‘اشرافیہ’ کو اربوں روپے کی سالانہ مراعات، مفت پٹرول اور بجلی فراہم کی جاتی رہی ہے۔ عوامی سطح پر اس نابرابری کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کو نئے مالیاتی بجٹ کے دوران شدید تنقید کا سامنا ہے کہ انہوں نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بڑھایا ہے۔ لہٰذا، کابینہ کی سطح پر قربانی دینے اور 128 ارب روپے کی سبسڈیز کا اعلان اس عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے اور یہ تاثر دینے کی کوشش ہے کہ حکومت اشرافیہ کے بجائے عام آدمی کے ساتھ کھڑی ہے۔
کفایت شعاری مہم کی پائیداری
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کسی حکومت نے اشرافیہ کی مراعات ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہو۔ تاہم، اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا وفاقی کابینہ کے پٹرول اور ٹی اے ڈی اے (سفری اخراجات) میں کٹوتی سے ملکی خزانے کو اتنا بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے جو عام آدمی کے ٹیکسوں کے بوجھ کو کم کر سکے؟ جب تک مراعاتی نظام میں مستقل قانونی اصلاحات نہیں کی جاتیں، یہ اقدامات عارضی ثابت ہوتے ہیں۔
علاقائی امن اور معاشی ترقی کا گٹھ جوڑ
وزیراعظم نے خطے میں امن کے بادل چھٹنے اور حالات معمول پر آنے کا جو ذکر کیا ہے، وہ پاکستان کی جیو-اکنامک (معاشی جغرافیائی) حکمتِ عملی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اگر سرحدوں پر کشیدگی کم ہوتی ہے تو دفاعی بجٹ کا دباؤ کم ہوگا اور وہ فنڈز زراعت، آئی ٹی اور معدنیات جیسے پیداواری شعبوں میں منتقل کیے جا سکیں گے، جس کا فائدہ بالآخر عوام کو ہی ہوگا۔