ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے اور ان کے یہ تمام دعوے غلط اور بے بنیاد ہیں۔
اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے بیانات سے نہ تو امریکا کو کسی قسم کی برتری حاصل ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان سے مذاکراتی عمل میں کوئی مثبت پیش رفت ممکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زمینی حقائق کے برعکس دعوے کرنا صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
ایرانی اسپیکر نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے گزرگاہ میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہ سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جہازوں کی آمد و رفت مخصوص راستوں کے ذریعے ہوگی اور اس کے لیے ایران کی اجازت لازمی ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے کھلے یا بند رہنے سے متعلق تمام فیصلے زمینی صورتحال کے مطابق کیے جائیں گے نہ کہ سوشل میڈیا یا بیانات کی بنیاد پر۔ ان کے مطابق میڈیا جنگ اور عوامی رائے کو متاثر کرنا بھی جدید جنگ کا اہم حصہ ہے تاہم ایرانی عوام اس قسم کے حربوں سے متاثر نہیں ہوں گے۔
محمد باقر قالیباف نے یہ بھی کہا کہ اگر مذاکرات سے متعلق درست اور مستند معلومات حاصل کرنی ہوں تو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیانات اور انٹرویوز کو دیکھنا چاہیے، کیونکہ وہی اصل مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔