راولپنڈی میں بھی ریڈ الرٹ، فیض آباد مکمل سیل، ہوٹلز اور دکانیں بند کروا دی گئیں، میٹروبس سروس بھی تاحکم ثانی معطل

راولپنڈی میں بھی ریڈ الرٹ، فیض آباد مکمل سیل، ہوٹلز اور دکانیں بند کروا دی گئیں، میٹروبس سروس بھی تاحکم ثانی معطل

اسلام آباد کے بعد راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے بھی سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کرتے ہوئے شہر کے کلیدی علاقوں کو سیل کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے ضلع بھر میں ہر قسم کی پرائیویٹ، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے داخلے اور نقل و حرکت پر تاحکمِ ثانی پابندی عائد کر دی ہے۔

پولیس نے فیض آباد اور تھانہ نیو ٹاؤن کی حدود میں سرچ آپریشن اور کریک ڈاؤن کرتے ہوئے تمام ہوٹلز، ہاسٹلز، ریسٹورنٹس اور دکانیں بند کروا دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں ہائی الرٹ، انتظامیہ کی ٹرانسپورٹرز اور شہریوں کے لیے نئی ہدایات جاری

مری روڈ کو فیض آباد کے مقام پر مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا ہے، جبکہ فیض آباد سے چلنے والے بین الصوبائی ٹرانسپورٹ اڈے بند ہونے کی وجہ سے مسافروں اور پردیسیوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

میٹرو بس حکام نے بھی ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر صدر اسٹیشن سے پاک سیکریٹریٹ تک سروس مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر سروس کو جزوی طور پر فعال رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم سیکیورٹی کی بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر اب اسے مکمل معطل کر دیا گیا ہے۔

19 اپریل 2026 کو نافذ کیے گئے ان اقدامات کے باعث جڑواں شہروں کا زمینی رابطہ تقریباً منقطع ہو چکا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ شہریوں کو سیکیورٹی صورتحال اور ٹریفک پلان کے حوالے سے مزید معلومات سے بروقت آگاہ کیا جائے گا، تب تک عوام سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان اس وقت عالمی سفارت کاری کے ایک انتہائی حساس موڑ پر کھڑا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں متوقع ہے۔

ان مذاکرات کی کامیابی عالمی معیشت اور خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔

سیکیورٹی ایجنسیاں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے جڑواں شہروں کو ’بفر زون‘ میں تبدیل کر رہی ہیں۔ راولپنڈی کا علاقہ فیض آباد، جو کہ اسلام آباد کا داخلی دروازہ ہے، سیکیورٹی کے لحاظ سے سب سے زیادہ حساس قرار دیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہاں تمام کاروباری اور سفری سرگرمیوں کو روک کر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی وفود کی نقل و حرکت کے دوران کوئی سیکیورٹی رخنہ پیدا نہ ہو۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *