متحدہ عرب امارات میں شدید مالی بحران، امریکا سے ڈالر سپورٹ مانگ لی

متحدہ عرب امارات میں شدید مالی بحران، امریکا سے ڈالر سپورٹ مانگ لی

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے متحدہ عرب امارات کی معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، اور پہلی بار خلیجی ریاست کو بڑے مالی بحران کے خطرات کا سامنا ہے۔

امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ممکنہ معاشی دھچکوں سے نمٹنے کے لیے متحدہ عرب امارات نے امریکا سے باضابطہ رابطہ کیا ہے اور ڈالر سپورٹ کے حصول کے لیے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خطے میں جنگی صورتحال کے باعث یو اے ای کی تجارتی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ بندرگاہی و لاجسٹک آپریشنز متاثر ہوئے ہیں جبکہ غیر یقینی حالات کے سبب سینکڑوں بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنے دفاتر بند کر دیے یا عارضی طور پر آپریشنز معطل کر دیے ہیں۔  اس نوعیت کی معاشی سست روی ماضی میں کم ہی دیکھی گئی ہے اور موجودہ صورتحال یو اے ای کے لیے ایک غیر معمولی آزمائش بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا جوابی وار، امریکی بحری جہازوں پر ڈرون حملہ، سمندر میں نئی محاذ آرائی شروع

اسی تناظر میں متحدہ عرب امارات کے سینٹرل بینک کے گورنر خالد بلاما نے امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں کی ہیں جن میں کرنسی سواپ لائن کے ذریعے ڈالر تک رسائی کے امکانات پر غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں اماراتی وفد کی اسکاٹ بیسنٹ سے واشنگٹن میں تفصیلی بات چیت بھی ہوئی۔

 اگر ایران-امریکا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یو اے ای کی معیشت پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں جس کے باعث مالیاتی استحکام برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

اگرچہ امریکی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات اب تک جنگ کے براہِ راست بڑے معاشی اثرات سے کسی حد تک محفوظ رہا ہے تاہم موجودہ حالات نے اس کے مالیاتی نظام اور تجارتی ڈھانچے پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یو اے ای نے بروقت اقدامات کے تحت عالمی مالی تعاون کی راہیں تلاش کرنا شروع کر دی ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *